طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 74
ایاس بن معاویہ کسی شہر گئے تو لوگوں سے فرمانے لگے
دو دن ہوئے ہم تمہارے شہر آئے اور دو دنوں میں ہم نے تمہارے اچھے اور برے لوگوں کو پہچان لیا
لوگوں نے کہا دو دن میں کیسے؟
فرمانے لگے
ہمارے ساتھ اچھے لوگ بھی تھے اور برے لوگ بھی تھے
ہمارے اچھے تمہارے اچھوں کے ساتھ گھل مل گئے اور ہمارے برے تمہارے بروں کے ساتھ گھل مل گئے
ہر ایک اپنی طبعیت والوں کے ساتھ مانوس ہوگیا
یہ سو فیصد حقیقت بات ہے بندہ اپنی طبعیت کے موافق انسان سے دوستی کرتا ہے
مخالف طبیعت کی صحبت سے کوسوں دور بھاگتا ہے
عرب کہتے ہیں
شبه الشيء منجذب إليه
شے کی مشابہت اپنی طرف کھینچتی ہے
دوسری سچائی یہ ہے جو امام ابن عطاء اللہ السکندری نے بیان فرمائی
اعلم أن المجانسة تكون بالمجالسة فإن جلست مع المسرور سررت وإن رافقت الغافلين غفلت وإن جلست مع الذاكرين الله ذكرت
جان لو مجانست {ایک جیسا ہونا} مجالست { ایک ساتھ بیٹھنے }سے ہوتی ہے اگر آپ مسرور انسان کے پاس بیٹھیں گے تو خوش ہو جائیں گے اگر غافلین کے ساتھ بیٹھیں گے تو غافل ہو جائیں گے اور اگر ذکرِ الٰہی کرنے والوں کے پاس بیٹھیں گے تو ذاکر ہو جائیں گے
معلوم ہوا مجانست دو طرح ہوتی ہے
ایک طبعی مجانست دوسری کسبی مجانست
آپ کی طبیعت میں علمیت نہیں ہے تو اھلِ علم کی صحبت میں بیٹھیں عالمانہ مزاج بن جائے گا
عالمانہ مجالس آپ میں فساد پیدا نہیں کریں گی جبکہ دیگر مجالس آپ میں عناد پیدا کریں گی
عربی شاعر کا شعر ہے
من لم تجانسه فاحذر أن تجالسه
ما ضر بالشمع إلا صحبة الفتل
آپ جس سے مجانست نہیں رکھتے اس کی مجالست سے بچیں کیونکہ شمع کو دھاگے کی صحت ہی نقصان پہنچاتی ہے
شمع آگ میں جلتی ہے کیونکہ یہ اس دھاگے کے ساتھ مس ہوتی ہے جسے آگ لگائی جاتی ہے
سوشل میڈیا بھی ایک طرح کی صحبت ہے
یہاں بھی متشدد مزاج کی فہرست میں ویسے ہی لوگ ہوں گے
ولہذا ہم اپنی صحبت پر نظر ناثی کریں
دنیا چار دن کی ہے یہاں بھی تکفیر و تضلیل و تفسیق کے فتوے دیں اور دنیا کی بہترین نعمت دوستی سے محروم ہوں یہ کیسی حماقت ہے؟
تفکیر و تضلیل و تفسیق اکابر علماء کا کام ہے وہی کریں گے
ہم عامی ہیں بس عامی رہیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
