ربانی علماء یا شیطانی علماء

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 72

محمد من منکدر کا فرمان ہے
الفقيه يدخل بين الله وبين عباده فلينظر كيف يدخل
عالِم جو ہے وہ الله رب العزت اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ ہوتا ہے تو عالِم کو چاہیئے وہ دیکھے کیسے داخل ہو رہا ہے
❗الفقیہ و المتفقہ للخطیب البغدادی ❗
لوگو کو مایوس کر رہا ہے یا گناہوں پر جری کر رہا ہے
لوگوں کو دین سمجھا رہا ہے یا اپنی انا پر چلا رہا ہے
لوگوں کو جنت کی طرف بلا رہا ہے یا فتنے و فساد کی طرف بلا رہا ہے

لوگوں کو ذکر و اذکار کی ترغیب دلاتا ہے یا اختلافی موضوعات کو نوکِ زبان رکھتا ہے
لوگوں کو تحمل و دلائل کی زبان سکھاتا ہے یا تشدد و بازاری لہجہ سکھاتا ہے
اول الذکر عالمِ ربانی ثانی الذکر عالمِ شیطانی ہے
جب ان جیسے علماءِ سوء کا قبضہ عوامی مقامات و مدارسِ اسلامیہ پر ہوگا اسلامی معاشرہ وجود میں نہیں آئے گا بلکہ شیطانی نفسانی حیوانی معاشرے کا قیام ہوگا
ایک نکتے کی بات سمجھ لیں
جس کا دل سخت ہوتا ہے اس کی زبان سخت ہوتی ہے تو طاقت آنے پر اس کے ہاتھ و تلوار بھی حرکت میں آتے ہیں
یہی خارجی سوچ کی ابتداء ہے
اھلِ حق ہونا زبان کی سختی کو واجب نہیں کرتا کہ آپ سمجھیں حق پر ہیں تو جو مرضی زبان استعمال کریں
اھلِ حق آواز نہیں دلائل بلند رکھتے ہیں
آپ اور آپ کے اساتذہ کی زبان اسلام کی ترجمان نہیں بلکہ اپ کے دل کے ترجمان ہے
جیساکہ کہا گیا
اللسان ترجمان الجنان
زبان دل کی ترجمان ہوتی ہے
لہذا اپنی سخت کلامی بیہودہ زبانی کو اسلام سے نہ جوڑیں غور کریں آپ کی یہ زبان غیر مسلم سنے گا تو اسے پہلے سخت کلامی کرنے کے جواز پر دلائل دیں گے یا اسلام کی حقانیت پر دلائل دیں گے؟
آپ گناہ گار ہیں خود پر رحم کریں
اسلام غریب الوطن ہے اسلام پر رحم کریں
مسلمان حیران و پریشان ہیں ان پر ترس کھائیں
الفاظ معقول رکھیں لہجہ شائستہ رکھیں اور پھر اسلام کی خدمت کریں
کہیں آپ کا شمار شیطانی علماء میں نہ ہونے لگ جائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top