کونج نے باز کا شکار کر لیا

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 71

وعظ و نصیحت کیا ہے ؟

امام راغب الاصفھانی وعظ و نصیحت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں
الوَعْظُ زجر مقترن بتخويف
وعظ ایسی ڈانٹ ڈپٹ ہے جو ڈرانے کے ساتھ ملی ہو
یعنی بندے کو جھڑکا جائے اور جھڑکنے میں بھی الله رب العزت کا خوف دلایا جائے عذابِ الٰہی سے ڈرایا جائے
امام خلیل نحوی کا قول نقل فرماتے ہیں
هو التّذكير بالخير فيما يرقّ له القلب
وعظ وہ بھلائی کا ذکر کرنا ہے جس سے دل نرم ہو جائے
❗المفردات فی غریب القرآن ❗
جہاں گناہوں کی بھر مار ہو وہاں جنت کا ذکر کرنا حماقت ہے کہ لوگ اور بے باک ہوں گے
وہاں پر الله کی پکڑ کا ذکر ہو قبر کی تاریکی کا ذکر ہو جہنم کے عذابوں کا ذکر ہو
ایک عالم بخوبی جانتا ہے کب کیا کونسی بات کرنی ہے
تو عالم کو کہنا یہ بیان کریں وہ بیان نہ کریں حماقت و جہالت ہے
وعظ کا معنیٰ ہی ڈرانا ہے تو ڈریں نہ کہ حیل و حجت کریں
آج کل کے اکثر خطیب واعظ نہیں قصہ گو ہیں
صرف شعلہ بیانی اور قصے کہانیاں سنا کے یہ جا وہ جا وعظ نہ تو کہتے ہیں نہ وعظ کے اھل ہوتے ہیں
سیدی ابو سلیمان الدارانی اکابر اولیاءِ امت میں سے ہیں
فرماتے ہیں
میں نے ایک واعظ کا وعظ سنا تو گھر کی طرف چل پڑا تاکہ سارا سامان صدقہ کروں مگر آدھے راستے میں جا کے دل بدل گیا
میں پھر اس کی مجلس میں واپس آیا پھر دل پر اثر ہوا پھر گھر کی طرف چل پڑا پھر دل بدل گیا تیسری بار واپس آیا دل نے چوٹ کھائی تو میں تیزی سے اٹھا اور گھر پہنچ کر سب صدقہ کر دیا
سیدی یحییٰ بن معاذ الرازی کو کسی نے یہ قصہ بیان کیا رو فرمانے لگے
عصفور اصطاد كركيا
چڑیا نے کونج کا شکار کر لیا

چڑیا سے مراد وہ واعظ اور کونج سے مراد سلیمان الدارانی ہیں
کونج برے قد کاٹھ کا ایک پرندہ ہے جسے پکڑنا آسان نہیں ہوتا
❗البدایہ والنہایہ ❗
جب آپ کسی سے سیکھتے ہیں تو اس کی باتوں سے فائدہ اٹھائیں اس کی تقریر و تحریر میں غلطیاں نہ نکالیں
اور کسی کی بات بھی دل پر اثر ڈالے تو قبول کریں عین ممکن ہے عام بندے کی عام بات آپ کو خاص بنا دے
جو بندہ کہتا ہے میں سیکھا سکھایا ہوں وہ نہ عام بات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے نہ خاص انسان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے
بڑے بڑے عجیب و غریب حماقت و جہالت سے بھرے لوگ میسج کرتے ہیں آپ نے یہ بات نہیں کرنی تھی یہ یوں کہنی تھی آپ یوں لکھا کریں یوں کیا کریں
بلا طلب کیئے مشورہ دینا جہالت ہے
انسان اپنی حیثیت اور سامنے والے کے قد کے مطابق کلام کرتا ہے
میں کسی کو نہیں سمجھاتا کیونکہ میں یہ جانتا ہوں کہ ان صاحب کا استاذ نہیں ہوں ان کے استاذ موجود ہیں
انسان استاذ سے ہی سیکھتا ہے اور اسی کو قبول کرتا ہے
ایک دو بار میرے استاذِ محترم نے غلطی کی نشاہدہی کی مجھے خوشی ہوئی اسے قبول کیا
ویسے الحمدللہ میرے دوست احباب بھی علمی ہیں کبھی کسی نے غلطی کی طرف اشارہ نہیں کیا الا ماشاءاللہ کیونکہ میں محتاط لکھتا ہوں اور وہ مجھے جانتے ہیں
تو ملک کے آخری کونے سے جو مجھے جانتا نہیں میرے تدریسی و علمی تجربے سے واقف نہیں وہ منہ اٹھا کے کیسے اور کیوں تربیت شروع کر دیتا ہے؟
یہی نکتہ اس وقت سوشل میڈیا پر فتنہ و فساد کی جڑ ہے کہ بغیر سامنے والے کو جانے تربیت یا تفسیق و تضلیل شروع کر دیتے ہیں

پڑھیں اور پڑھیں پھر پڑھیں
پھر جا کے علم والوں کی معیت میں علمی بلندی پر کھڑے ہوں گے تو سمجھ اجائے گی کہ یہ بات یوں ہے
زمین پر کھڑے ہونے والے کو چھت پر موجود انسان کی برابری کرنا روا نہیں ہے
بلندی پر موجود آدمی چھوٹا لگتا ہے اور گہرائی میں کھڑا آدمی بھی چھوٹا لگتا ہے
جبکہ حقیقت میں نیچے والا بھی چھوٹا نہیں ہے اور والا بھی چھوٹا نہیں ہوتا

دونوں ایک دوسرے کو چھوٹا سمجھتے ہیں جبکہ اوپر والا محنت سے اوپر پہنچا ہے نیچے والا نیچے رہ کر اس کی بلندی کی برابری نہیں کر سکتا
آپ کسی بات کو درست سمجھتے ہیں تو اپنے تئیں درست سمجھیں اور پھر جب سامنے عالم ہو تو خود کو ہی غلط قرار دیں
یہی ایک کامیاب طالبِ علمِ دین کی شان ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top