طریقِ_علمِ_نجاتِ_دارین 53
شیخ ذاکر حنفی نے فرمایا
يا عريض القفا لو كان كل دليل منطوقًا صريحًا لاستوى أمثالك والفقهاء
اے چوڑی گدی والے
اگر ہر دلیل واضح ہوتی تو تیرے جیسا اور علماء برابر ہوتے
یعنی ہر مسئلہ کی دلیل واضح نہیں ہوتی یہ علماء کا کام ہوتا ہے کہ مسائل کے دلائل تلاش کرنا اور کبھی علماء تمہیں سمجھا پاتے ہیں اور کبھی دلیل سمجھا نہیں پاتے
علماء کا کام دلیل تک پہنچنا ہوتا ہے دلیل تک پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ صرف مسئلہ بتانا ہوتا ہے
لہذا عوام آم کھائے پیڑ نہ گنے
جب سے امت میں ہر بات کی دلیل کا فتنہ پیدا ہوا علماء کی اہمیت کم کر دی گئی شاید ہر بات میں دلیل مانگنے کا رجحان پیدا ہی علماء کی توہین کے لیئے کیا گیا
° عالمِ دین مسئلہ بتانے کا امین ہوتا ہے دلیل دینے کا ذمہ دار نہیں ہوتا °
علماء سے مسائل پوچھیں جواب میں دلائل مانگ کر مناظر نہ بنیں
مجھے اکثر اھلِ علم فرماتے ہیں کہ آپ تحریر میں حوالہ لکھیں اس سے تحریر کا حسن بڑھے گا اور قوت میں اضافہ ہوگا
مگر میری کچھ وجوہات ہیں جو میں تحریر میں حوالہ نہیں لکھتا
اول
بچپن سے اب تک جو پڑھا حافظے کے زور پر لکھتا ہوں اکثر اوقات کتاب یاد ہوتی ہے بس وہ نام لکھ دیتا ہوں یہی کافی ہے اور یہی اسلاف کا طریقہ ہے کہ کتاب کا نام دے دیا جائے کہ عالم مآخذ تک پہنچ جائے گا اور جاہل پر لازم ہے لکھنے والے پر اعتبار کرے
دوم
جتنی دیر میں حوالہ تلاش کر کے لکھوں مثلاً جلد و صفحہ و مطبوعہ اتنی دیر میں نئی تحریر لکھ لیتا ہوں
سوم
یہی وجہ کہ آپ آم کھائیں پیڑ نہ گنیں
تحریر پڑھیں غلط صحیح ہمارے ذمے ہے کہ ہم امین ہیں
چہارم
حوالہ لکھ دوں تو کیا حاصل ہوگا ؟
محبت کرنے والا پہلے ہی مان چکا ہوتا ہے بغض رکھنے والا اصلِ کتاب دیکھ کر بھی تاویلات کرے گا
ایک بار کسی نے حوالہ مانگا میں نے بتا دیا فلاں کتاب ہے جلد کونسی
جلد بتا دی
صفحہ کونسا ہے
وہ بھی بتا دیا
آگے سے کہنے لگا اس کا سکرین شاٹ دیں
یہاں دماغ تو بہت گھوما کہ بندہ اِن کے اِنہی کاموں میں لگا رہے
ان جیسے احمقوں کے لیئے ہی ہے مسائل پوچھیں دلائل نہیں
بس اس کے بعد سے ذہن بنا کہ ہم نے لکھنا ہے حوالے خود تلاش کرتے رہیں یا کسی عالم سے پوچھ لیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
