عالم کی شاگردی اور پیر کی بیعت کب کرنی چاہئے

طریقِ_علمِ_نجاتِ_دارین 52

سیدی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عظیم تابعی احنف بن
قیس کو ایک سال تک مدینہ پاک میں رہنے کا پابند کیا ایک سال بعد فرمایا
میں نے تجھے آزمایا تیرا امتحان لیا تو میں نے تیری جلوت اچھی پائی مجھے امید ہے تیری خلوت بھی تیری جلوت کی طرح ہوگی
ہم یہ کہا کرتے تھے
انما یُھلک ھذہ الامةَ کلٌ منافقٍ علیمٍ

اس امت کو ہر علم والا منافق ہی برباد کرے گا

(سیر اعلام النبلاء جلد 5 صفحہ 388)
یعنی ایسا عالم جو اپنے علم پر عمل نہ کرتا ہو
جس کی خلوت گناہ میں اور جلوت نیکی میں نظر آتی ہو وہ امت کو تباہ کرے گا
یہاں سے ایک اہم ترین بات سمجھ کر ذہن نشین کر لیں کہ سیدی عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے فھم و فراست کی مالک ہستی نے ایک سال تک امتحان لیا اس کے بعد بھی یقینی طور پر اچھا ہونے کی سند جاری نہیں کی بلکہ فرمایا مجھے امید ہے
جبکہ ہم کسی کا ایک بیان سن کر ایک بات سن پڑھ کر بلکہ ظاہری شکل و صورت دیکھ کر امام و ولی قرار دے دیتے ہیں!
یاد رکھیں کسی عالم کی شاگردی اختیار کرنی ہو یا کسی پیر کا مرید ہونا ہو تب بھی ایک عرصہ ان کی علومِ ظاہری و علوم باطنی کے بارے معلومات لینا ناجائز و منع نہیں بلکہ اچھا ہے
کسی کے کہنے پر ایک دو مجلس میں شرکت کر کے کسی کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دیں نہ کسی کی شاگردی اختیار کریں
زمانہ پرفتن ہے ٹھوک بجا کر چیک کریں

سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top