متقدمین علماء متاخرین علماء کے رہنماء کیوں ہیں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 44

°°° بظاہر علماء جو حقیقتاً علماء کی صف سے باہر ہیں °°°

متکلم کی اقتداء جائز ہے؟

فتح القدیر میں ہے
امام اعظم کے بیٹے حضرت حماد نے عرض کیا کہ آپ خود تو مناظرہ کرتے رہے ہیں اور ہمیں مناظرہ کرنے سے روکتے ہیں
امام اعظم نے فرمایا
ہم مناظرہ کرتے تھے تو ہمارے سروں پر گویا پرندے ہوں یوں محتاط رہتے تھے کہ کہیں ہمارے سامنے والا بہک نہ جائے جبکہ تم مناظرہ کرتے ہی اسی لیئے کہ سامنے والا بہک جائے
اور جو سامنے والے کے بہکنے کا ارادہ کرے گویا اس نے اس کے کفر کا ارادہ کیا یوں سامنے والے کے کافر ہونے سے پہلے یہ خود کافر ہو جاتا ہے
{ کتاب الصلاۃ باب الامامۃ }
اسی میں امام ابو یوسف کا فرمان ہے
لَا يَجُوزُ الِاقْتِدَاءُ بِالْمُتَكَلِّمِ وَإِنْ تَكَلَّمَ بِحَقٍّ
متکلم کی اقتداء میں نماز جائز نہیں ہے اگرچہ وہ حق بات کرے

متکلم وہ ہوتا ہے جو علمِ عقائد کو مناظرانہ اور عقلی دلائل سے ثابت کرتا ہے
آپ اس سے سمجھ لیں کہ مناظرانہ طبیعت رکھنے والے کو ائمہ احناف کتنا ناپسند کرتے ہیں حتی کہ ان کی اقتداء میں جماعت جائز نہیں مانتے
اب آپ غور کریں مناظر بننا ہے یا فقیہ بننا ہے؟

انتہائی اہم نکتہ
اعلی حضرت فرماتے ہیں
جب متاخرین کا علمِ کلام جس کے اصلِ اصول عقائد سنت و اسلام ہیں بوجہ اختلاطِ فلسفہ و زیاداتِ مزخرفہ مذموم ٹھہرا اور اس کا مشتغل لقبِ عالم کا مستحق نہ ہوا تو خاص فلسفہ منطقِ فلاسفہ و دیگر خرافات کا کیا ذکر کیا جائے
ولھذا حکمِ شرعی ہے کہ اگر کوئی شخص علماءِ شہر کے لیئے کچھ وصیت کر جائے تو ان فنون کا جاننے والا ہرگز اس میں داخل نہ ہوگا
(فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 627)

انتہائی توجہ طلب بات کہ علمِ کلام میں دلائل سے ملاحدہ و اھلِ ھواء کا رد کیا جاتا ہے جو کہ بلا شبہ دین کی خدمت ہے مگر شریعت مطہرہ اسے بھی مذموم و مکروہ جانتی ہے
کیونکہ دین میں قیل و قال حرام ہے
ایمان بالغیب افضل ایمان ہے
تو افضل ایمان چھوڑ کر ہوائے نفس کی پیروی میں منطق و فلسفہ میں سر کھپانا خود بھی شکوک و شبہات میں پڑنا اور عوام پر بھی دروازے کھولنا ہے

حدیقہ ندیہ کے حوالے سے ارشاد کیا
جو کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منطقی خرافات جانتے تھے وہ کافر ہے
اس پر اعلی حضرت نے فرمایا
جب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منطق منسوب کرنے والے کا یہ حکم ہے تو ہلاک کرنے والے فلسفہ کی نسبت کرنے والے کے بارے خیال ہے
(صفحہ 629)

اور احمق حضرات منطقی کہلا کر فخر محسوس کرتے ہیں
فلسفے میں نام کما کر تعلیاں مارتے ہیں
آپ دیکھیں گے اولیاء کرام کی صحبت سے دور و نفور بلکہ اولیاء کرام کا مذاق اڑانے والے فلسفی و منطقی ہی زیادہ ہوتے ہیں
کیونکہ عقلی علوم دل میں کبر و غرور پیدا کرتے ہیں

صفحہ 627 پر ارشاد کیا
فلسفہ و نجوم و قافیہ و عروض یا کوئی دنیا کا کام جیسے نقشہ و مساحت کے جاننے والے کو عالم نہیں کہا جائے گا! (ملخصاً)
یعنی گدھا چلانے والا اور فلسفی و منطقی عند الشرع برابر ہیں

اسی وجہ سے مناطقہ و فلاسفہ بلکہ متکلمین کا شمار بھی مسلمانوں کے علماء میں نہیں ہوتا

مناطقہ و فلاسفہ کی مت ایسی ماری گئی ایک صاحب منطق و فلسفہ کی اہمیت کو قرآن و حدیث سے ثابت کرتے نظر آئے
علمِ دین وہی ہے جو منطق و فلسفہ کی آمیزش سے پاک ہو یہی وجہ ہے کہ متقدمین علماء متاخرین علماء کے مقتداء و رہمنا قرار پاتے ہیں کیونکہ وہ ایمان بالغیب کے قائل اور منطق و فلسفہ کی برائی سے پاک نفوس تھے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top