طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 39
کسی عالم کا کوئی قول و فعل حجت نہیں ہے
ہاں مگر ہر وہ قول و فعل جو قرآن و حدیث کے اصولوں پر پورا اتر جائے وہ حجت بن جاتا ہے
°°° جب ہم کسی کو حجت کہتے ہیں تو مطلب ہوتا ہے کہ ان کا کوئی قول و فعل قرآن و حدیث کے اصولوں سے باہر نہیں ہے °°°
اسی وجہ سے ترجمان القرآن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا
ليس أحد إلا يؤخذ من قوله ويترك إلا النبي صلى الله عليه وسلم
{ السنن للبیہقی }
ہر انسان کا قول لیا جا سکتا ہے اور رد کیا جا سکتا ہے سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے
کہ فرمان مصطفی ہر حال میں قبول و تسلیم کیا جائے گا بلکہ ایمان نام ہی اسی پاک و صاف ذات کے اقوال و افعال کو بلا چوں چراں ماننے کا ہے
اب ذرا ایک اہم بات سمجھیں
ایک امام یا عالم قول آپ کی نظر میں قرآن و حدیث کے اصولوں پر پورا اتر بھی گیا تو کیا کسی اور کی نظر میں بھی قرآن و حدیث کے اصولوں پر پورا اترا ہے؟
یعنی ہو سکتا ہے آپ کے ممدوح عالم کی بات کسی کو قرآن و حدیث کے اصولوں پر پوری اترتی نظر نہ آرہی ہو اسی لیئے وہ اپنی فکر و نظر کے مطابق آپ کے محبوب عالم و امام سے اختلاف کر رہا ہے اور یہ اختلاف عناداً و بغضاً نہ ہو تو آپ اس مسلمان کے لیئے سخت کلمات نہ کہیں نہ اسے گستاخِ علماء شمار کریں
یہی راہِ اعتدال ہے کہ ہر امام و عالم سے اختلاف ممکن ہے
اب رہا یہ کہ آپ ویسا علم لاؤ تو اختلاف کرو تو کیا امام محمد کا علم امام اعظم جیسا ہے؟
کیا امام طحاوی کا علم امام ابو یوسف جیسا ہے؟
عناداً و بغضاً اختلاف نہ ہو تو اوپر بیان کر دیا کہ پر ایک سے اختلاف ممکن ہے
اھلِ عرب کہتے ہیں
قد یوجد فی النھر ما لا یوجد فی البحر
کبھی کبھار نہر میں وہ چیز مل جاتی ہے جو سمندر میں نہیں ملتی
سیدی احمد زروق نے قواعد التصوف میں قاعدہ 38 بیان فرمایا
سابقہ دور کا عالم بعد سے والے علم میں اولی نہیں ہے
پھر ابن مالک کا فرمان نقل کیا
إذا كانت العلوم منحاً إلهية ومواهب اختصاصية فغير مستبعد أن يدخر لبعض المتأخرين ما عسر على كثير من المتقدمين نعوذ بالله من حسد يسدّ باب الإنصاف ويصد عن جميل الأوصاف
جب علم عطائے الٰہی اور عنایت ربی ہے تو بعید نہیں کہ بعض متاخرین کے لیئے علم باقی رکھے جو متقدمین پر مشکل ہو گئے تھے
ہم اللہ رب العزت کی پناہ مانگتے ہیں ایسے حسد سے جو انصاف کا دروازہ بند کر دے اور اوصاف کے جمال سے روک دے
{ قواعد التصوف لاحمد زروق}
° اکابر علماء و اولیاء کی تصریح سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پہلے کے علماء بعض والوں کے لیئے بہت کچھ چھوڑ جاتے ہیں °
اور بغض و عناد سے ہٹ کر اللہ رب العزت کی دی ہوئی عقل سے ادلہَ شرعیہ کے ساتھ کوئی چھوٹا بڑے سے اختلاف کرے تو قبیح نہیں اور اسے گستاخی کہنے والا خود جاہل و بے کار ہے
علماء کرام کہتے ہیں
کم ترک الاول للاخر
بہت سا علم پہلے والوں نے بعد والوں کے لیئے چھوڑ دیا ہے
ہماری شریعتِ مطہرہ نے جمود کا نہیں تفکر کا حکم دیا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
