صاحبِ علم چور

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 33

امام ابن الجوزی نے کتاب الاذکیاء میں فرمایا
انطاکیہ کا قاضی رات کے وقت فارغ ہو کر اپنی زمین کو دیکھنے نکلا تو راستے میں ایک چور سے سامنا ہوگیا
چور کہنے لگا, جو کچھ ہے نکال دو, قاضی صاحب کہنے لگے اللہ تعالیٰ تجھے سلامت رکھے علماء کی عزت ہوتی ہے
اور میں اس شہر کا قاضی ہوں تو مجھے ہی لوٹنے لگا ھے؟
چور نے کہا, اللہ کا شکر ہے اس نے مجھے آپ پر غلبہ بخشا
کیونکہ مجھے یقین ہے کہ آپ کو لوٹ لوں تب بھی آپ کے پاس کپڑے اور سواری باقی بچے گی

قاضی صاحب نے اپنی علمیت کی دھاک بٹھانا چاہی اور کہا
کیا تمہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں پہنچی
الدین دین اللہ والعباد عباد اللہ و السنۃ سنی فمن ابتدع فعلیہ لعنۃ اللہ
دین اللہ کا دین ہے اور بندے اللہ کے بندے ہیں اور قابل تقلید میرا طریقہ ہے تو جو دین میں نئی راہ نکالے اللہ تعالیٰ کی اس پر لعنت ہو
اور مجھے تم پر رحم آرہا ہے کہ کہیں تم اللہ رب العزت کی لعنت میں نہ آجاؤ

چور کہنے لگا
یا سیدی یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ نہ یہ نافع سے مروی ہے نہ ابن عمر سے مروی ہے

اور اگر میں آپ کی روایت کو تسلیم کر بھی لوں کہ یہ روایت متصل ہے تو آپ کا کیا خیال ہے اس چور کے بارے میں جس کے اھل و عیال بھوکے ہیں؟
اور وہ بھوک کی شدت سے مرنے کے قریب ہیں, تمام علماء کا اتفاق ہے کہ ایسی حالت میں کسی کا مال چھین لینا جس سے زندگی بچ جائے جائز ھے

قاضی صاحب کہنے لگے
مجھے جانے دو میں خادم کے ہاتھ تمہارے گھر والوں کے لیئے کھانا پہننا بھیج دوں گا
چور نے کہا آپ ہرگز ایسا نہیں کریں گے
قاضی نے کہا میں قسم اٹھاتا ہوں ایسا ہی کروں گا
چور کہنے لگا
حدثنی مالک عن نافع عن ابن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال یمین المکرہ لا تلزم
مجھے امام مالک نے بیان کیا وہ نافع سے وہ ابن عمر سے روای کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مجبور شخص کی قسم لازم نہیں ہوتی
یعنی آپ تو اس وقت مجبور و مقہور ہیں آپ کی قسم کا اعتبار نہیں
جب قاضی نے راہِ نجات کچھ نہ دیکھی تو شلوار کے سوا سب کچھ چور کے حوالے کرنا پڑا

عجیب چور تھا جو احادیث کی اسناد اور حکم کو جانتا تھا اور علماء کے اختلاف و اتفاق کو پہچانتا تھا

علم والا چور تھا

ادھم بن عسقلہ نامی چور بنو عباس کے دور کا مشہور تھا
اس نے اپنی وفات کے وقت شاگردوں کو وصیت کی کہ
“کسی عورت کا مال چوری نہ کرنا, کیس فقیر کا مال نہ چرانا, اور نہ اپنے پڑوسی کی چوری کرنا, اور جب تم چوری کرو تو آدھا مال لینا باقی آدھا چھوڑ دینا تاکہ جس کی چوری ہو وہ زندگی گزار سکے اور ظالم و قاتل نہ بن جانا”

بامر مجبوری چور ہونا الگ بات ھے مگر با اصول و با اخلاق ہونا الگ بات ھے
زمانہ جاہلیت کے بعض رسم و رواج جہالت ہیں مگر بے شمار عادات ایسی ہیں کہ زمانہ جدید آج بھی انکا محتاج ھے!
مگر اس جدید زمانہ کے جہال اخلاقی لحاظ سے زمانہ جاہلیت سے گئے گزرے ہیں
یہاں الحاد و لبرلزم اور ہم جنس پرستی وغیرہ امراض شدید تر ہیں جن سے جاہلیت والے دور تھے
ایک بڑے نکتے کی بات سمجھ لیں
علم والا کتنا بڑا ہی مجرم کیوں نہ ہو کیسا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو ایک دن وہ راہِ راست پر آ ہی جاتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ اپنے علم پر غرور و تکبر نہ کرنے والا ہو
گناہ کر کے عاجزی کرنے والا بچ جاتا ہے مگر بیباک کبھی نہیں بچتا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top