برکات والا علم نہ کہ شکوک و شبہات والا علم

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 22

کتاب سے با وضوء , بھوکے پیٹ حاصل ہونے والا قلیل علم بھی کثیر روحانیت و نورانیت لاتا ہے
جبکہ
نیٹ سے بے وضوء , پیٹ بھر کے , الٹا سیدھا بیٹھ کر حاصل کیا جانے والا علم سرکشی و بے ادبی لاتا ہے

آپ سوچیں کونسے طریقے سے علم حاصل کر رہے ہیں؟

استاذ و کتاب کے درمیان ادب مثلِ نکاح ھے

نیٹ سے حاصل ہونے والا علم نور نہیں بلکہ فتور ہوتا ہے

علم جب تک استاد سے حاصل نہ کیا جائے مخنث ہوتا ہے
علوم دینیہ میں کتاب ماں اور استاد باپ ہوتا ہے
اور ماں باپ کے بغیر کچھ بھی وجود میں نہیں آتا
اگر آتا ہے تو غامدی’ مرزا جہلمی’ فیسبکی بد تہذیب طحاوی و شوکانی و عسقلانی وغیرہ جیسے مخنث وجود میں آتے ہیں
از خود علم کے حصول کی تمنا پرلے درجے کی جہالت ہے

کتاب اور استاد ماں باپ جیسے , اور بیچ میں ادب سے حصولِ علم ماں باپ کے نکاح جیسا ہے
اگر نکاح نہیں تو حاصل ہونے والا کیسا ہوگا آپ کو بخوبی معلوم ہے
اسی طرح اگر استاد و کتاب کے ساتھ ادب نہیں تو وہی ناجائز علم ہے جو کہ گمراہ کن ہوتا ہے
الغرض استادوں سے پڑھ کر کتابوں سے علم حاصل کریں ورنہ شر و فتنے کا دروازہ بن جائیں گے
آپ دیکھ لیں امت میں اکثر فتنے ان لوگوں کی طرف سے آئے جو کسی استاذ سے نہیں پڑھے ہوتے
جو درسی کتب پڑھے بغیر اور بے استاذ کے علم کا مدعی ہوتا ہے وہ شکوک و شبہات پھیلاتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top