طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 21
کہا جاتا ہے کہ
امام بخاری نے طلبِ حدیث میں اتنی کثرت سے سفر کیا کہ آپ کا سفر زمین کے گرد دو چکروں کے برابر ہو جائے
اسی محنتِ شاقہ کا پھل ہے کہ بخاری شریف قرآن کے بعد صحیح ترین کتاب شمار کی جاتی ہے
علماءِ کرام نے فرمایا
العلم بالسفر
علم سفر سے آتا ہے
مختلف شہروں کی جانب سفر کرنے سے ذہن کھلتا , تہذیبوں , ثقافتوں , اور مختلف علوم و فنون کے علماء سے ملاقاتوں کی وجہ سے علم میں پختگی آتی ہے
میری معلومات میں ایک بھی ایسا اصولی مسفر محدث فقیہ مجتہد نہیں ہے جس نے صرف اپنے شہر سے علم حاصل کیا ہو سوائے عبد القاہر جرجانی جو مائۃ عامل کے مصنف ہیں
اگر آپ اپنے علم میں پختگی لانا چاہتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ سفر کریں زیادہ سے زیادہ استاذ بنائیں
اور اپنے استاذ خود چنیں کہ جس سے مال کا لین دین کرنا ہو تو دیکھ بھال کی جاتی ہے
علم کا لین دین کرنا ہو تو دیکھ بھال باریکی سے کی جانی چاہئے
ویسے بھی اسلاف کا طریقہ کار رہا ہے کہ پہلے استاذ کے بارے دیکھ بھال کرتے پھر علم سیکھتے تھے
پھر جب استاذ بنا لیں تو اس کے غلام بن جائیں تبھی علم آئے گا انا یعنی میں سے بندہ خود تک محدود رہتا ہے آسمانوں, زمینوں کا علمی سفر طے نہیں کر سکتا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
