تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی معیت کا شرف پانے کا نسخہ

تصوف_وصوفیاء 63

تفسیر بحر المحیط میں ابو حیان اندلسی نے آیتِ کریمہ

ومن يطع الله والرسول فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم
جس نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی تو وہ ان کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا
کے تحت فرماتے ہیں
الأرواح الناقصة إذا استكملت علائقها مع الأرواح الكاملة في الدنيا بقيت بعد المفارقة تلك العلائق
ناقص روحوں کا تعلق جب کامل روحوں سے دنیا میں کامل و مکمل تعلق ہوجاتا ہے تو یہ تعلق جدائی کے بعد بھی قائم رہتا ہے
یہاں ہرگز کوئی یہ نہ سمجھے کہ معیت ان نیکوں کے درجہ میں ہوگی
کوئی امتی خواہ کتنا ہی بلند مقام رکھتا ہو نبی کے درجہ میں معیت نہیں حاصل کر سکتا
وہاں بلند رتبے والے کم درجے والوں سے ملاقات کے لیئے تشریف لائیں گے
ہاں ایک قول یہ ہے کم درجہ والے کبھی کبھار ملاقات کے لیئے صلحاء کے پاس حاضر ہوں گے
بہرحال جب ناقص روح کا کامل روح سے تعلق کامل ہوتا ہے تو کامل کی نگاہِ فیض ہر وقت ناقص کے ساتھ رہتی ہے یہی معیت دنیا میں اور آخرت میں ہے
شیخِ کامل وہی ہوتا ہے جو فیض دے نہ کہ مال لے
پیرِ کامل مال کا نہیں بلکہ مرید پیر کے فیوض کا محتاج ہوتا ہے
مرشد وہی کامل جو قرآن کریم کی بیان کردہ اس معیت پر پورا اترے
اور کامل مرید بھی وہی جو پیر کی نگاہ میں ہمیشہ رہے
ورنہ
بڑے بدنصیب ٹھرے کہ قرار تک نہ پہنچے
درِ یار تک تو پہنچے دلِ یار تک نہ پہنچے

جو پیر کامل کی نگاہوں میں آگیا جسے مرشدِ کامل کی معیت مل گئی اسے تمام انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء کرام کی معیت مل گئی کیونکہ ولی کو انبیاء کرام علیہم السلام کی معیت حاصل ہوتی ہے تو مریدِ کامل کو بھی اسی وسیلے سے اس معیت کا شرف مل جاتا ہے
اپنے تعلقات انبیاء کرام علیہم السلام سے رکھیں
صحابہ کرام کے راستے سے انبیاء کرام علیہم السلام سے بنایا گیا تعلق قابلِ قبول ہے
اولیاءِ کرام کے راستے سے بنایا صحابہ کرام سے بنایا گیا تعلق قابلِ قبول ہے
اولیاءِ کرام سے تعلق تبھی بن سکتا ہے جب آپ کا موجودہ علماءِ اھلِ سنت سے عزت و تکریم کا تعلق ہو
انبیاء کرام علیہم السلام کی معیت جب نصیب ہوگی تو دِلوں کو چین و قرار اور سخت سے سخت حالات میں اطمینان و قرار سکون ملے گا اور ان کی مبارک ارواح دستگیری فرماتی رہیں گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top