لیلیٰ نے مجنوں کا برتن پھینک دیا

تصوف_وصوفیاء 55

حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
وَاللَّهِ لَا يُعَذِّبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَبِيبَهُ وَلَكِنْ قَدْ يَبْتَلِيهِ فِي الدُّنْيَا

خدا کی قسم, اللہ عز و جل اپنے پیارے کو عذاب نہیں دیتا ہاں مگر دنیا میں اسے آزمائش میں مبتلاء کر دیتا ہے

❗الزھد لامام احمد بن حنبل ❗

یعنی جس پر رب العالمین راضی ہو اسے دنیا میں مصائب و تکالیف دی جاتی ہیں
تاکہ اس کا دل دنیا کی رنگینیوں سے ہٹ کر اپنے رب کی طرف لگا رہے
وھب بن منبہ فرماتے ہیں
إِذَا سُلِكَ بِكَ سَبِيلُ أَهْلِ الْبَلَاءِ فَاعْلَمْ أَنَّهُ سُلِكَ بِكَ سَبِيلُ الْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ
جب تجھے ایسے لوگوں کے راستے پر چلایا جائے جو بلاؤں میں گھرے ہوئے ہوں تو سمجھ لو کہ تمہیں انبیاء کرام اور نیک لوگوں کے رستے پر چلایا جا رہا ہے

❗الزھد لامام احمد بن حنبل ❗
لیلیٰ کھانا تقسیم کر رہی ہے مجنوں قطار میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے
لیلیٰ نے سب کو کھانا دیا
مجنوں کی باری آئی تو لیلیٰ نے اس کا برتن لے کر زمین پر پھینک دیا
مجنوں خوںشی سے رقص کرنے لگا
لوگوں نے کہا عجیب بات ہے اس نے سب کو کھانا دیا اور تمہارا برتن زمین پر پھینک دیا تم اس پر خوشی منا رہے ہو

کہنے لگا, یہی تو لیلیٰ کی مجھ سے محبت ہے کہ اس نے مجھ سے انفرادی سلوک کیا ہے

محبوب کا دیا ہوا زخم پھول اور دیا گیا داغ چراغ ہوتا ہے

شکوہ تو ایک چھیڑ ہے لیکن حقیقتاً
تیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں
بے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیں
توفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں

ایک بذرگ تھے جب ان پر فقر و فاقہ آتا تو کہتے مرحباً بشعار الصالحین یعنی نیک لوگوں کی علامت کو خوش آمدید

کہ فقر و فاقہ نیکوں کی علامت ہے اس کے آنے پر خویش کا اظہار کیا جائے نہ کہ ناشکری کے کلمات بول کر عاقبت خراب کی جائے
یہی وجہ ہے کہ سلطان باہو رحمة الله عليه نے فقر پر خاص زور دیا اور سلطان الفقر کہلائے
الله رب العزت اپنے اولیاء کا صدقہ ہمیں فقر پر راضی رکھے اور ہم سے راضی ہو جائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top