تصوف_وصوفیاء 48
دنیا میں ہر ٹوٹی چیز کی قدر و قیمت کم ہوتی ہے سوائے ایک چیز کے
کہ وہ جتنی ٹوٹے گی اتنی قدر و قیمت زیادہ ہوگی
اور وہ دل ہے
حدیث قدسی میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے
أَنا عِنْد المنكسرة قُلُوبهم من أَجلي
میں ٹوٹے دلوں کے پاس ہوں جو میری وجہ سے ٹوٹے
یعنی میری رحمت ان کے پاس زیادہ ہے جو میری محبت میں یا خوف سے ٹوٹے دل والے ہیں
مسلمان کو ہلکی سی اذیت بھی رحمتِ الٰہی کے سبب ہوتی ہے
مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے
ما من مسلمٍ يُشاك شوكةً فما فوقها إلا كُتِبتْ له بها درجةٌ ، و مُحِيَتْ عنه بها خطيئةٌ
کسی مسلمان کو کانٹا بھی چبھے تو اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا ھے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ھے
یعنی مسلمان کا دل پریشان ہوا تو درجات کی بلندی اور گناہ کی معافی کا پروانہ ملا ہے
معجم الاوسط کی حدیث پاک ہے
ان من الذنوب ذنوبا لا يكفرها الا هم المعيشة
کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا کفارہ صرف فکر معاش ہوتی ہے
یعنی صرف اھل و عیال کے لیئے حلال روزی کی سوچ بھی گناہ معاف کروا دیتی ہے
الغرض مومن کا دل جب بھی پریشان ہوگا تو اللہ کی رحمت قریب پائے گا
فکر معاش ہو یا بدنی مصیبت یا کسی جانب سے زبانی تکلیف مومن کے لیئے خیر ہی خیر ہے
شکوہ نہ کرے دل کو ٹوٹا رہنے دے ٹوٹے دل پر اور اسکے ارد گرد سکینہ نازل ہوتا ھے
ٹوٹے دل سے ہی حکمت کے چشمے پھوٹتے ہیں جیسے ٹوٹے پتھر سے پانی کے چشمے نکلتے ہیں
مومن کا دل یا تو عشق الٰہی سے غمزدہ رہتا ھے یا خوف الہٰی سے ڈرتا ھے
اگر دل میں نہ حبِ الہی کی غمگینی ہے نہ خشیت الہی کا احساس تو پتھر سے بے وقعت دل ہے!
جس دل میں غمگینی زیادہ ہے وہ اتنا ہی قیمتی دل ہے
بے چَین رہوں بے تاب رہوں ،میں ہچکیاں باندھ کے روتارہوں
یہ ذوقِ جُنوں بڑھتا ہی رہے،ہر دم یہ مجھ کو رُلاتا رہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
