ظاہری و باطنی رنگ

تصوف_وصوفیاء 46

°°° نبوت کے سات جزء °°°

حضور سیدی عبد العزیز الدباغ مصری الابریز شریف میں فرماتے ہیں
نبوت کے سات اجزاء ہیں
حق بات کہنا, صبر کرنا, رحمت کرنا, معرفتِ الٰہی, اللہ رب العزت سے خوفِ تام, باطل سے بغض رکھنا, عفو درگزر کرنا,

حق بات کہنے پر دو حکایتیں بیان فرمائیں
عجمی ملک میں ایک پرندہ تھا جب چور گھر میں داخل ہوتے تو وہ بلند آواز سے کہتا چوری نے چوری کر لی چور نے چوری چوری کر لی اور وہ پرندہ اپنی اس آواز سے باز نہیں آتا تھا اگرچہ اسے مارنے, کاٹنے, کی دھمکی دی جاتی اگرچہ اسے کھانے پینے کی اشیاء دی جاتیں تب بھی وہ چور چور کی آواز نکالتا تھا
یعنی پرندہ ہر حالت میں حق بات کہتا تھا
دوسری بات کہ پرندے کو علم ہونے کے بعد حق بات کہنا اس کی عادت بن گئی تھی تو انسانوں اور پھر مومنوں کی کیا شان ہونی چاہئے؟

دوسری حکایت
°°° ایک مرید نے مرشد کو کہا مجھے ایسی بات بتائیں کہ میں اللہ کا مقرب ہو جاؤں °°°
مرشد نے فرمایا
اللہ تعالیٰ کے کسی ایک رنگ میں رنگ جاؤ
اس کی صفت کے مظہر بن جاو
اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ قیامت میں تمہیں اپنے دوستوں میں رکھے گا کیونکہ تم اس کی صفات سے متصف ہو
عرض کی کہ اللہ رب العزت کی صفات تو لا محدود ہیں
شیخ نے فرمایا
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت حق بات کہنا ہے تم اس صفت کو اختیار کر لو
مرید نے حق بات کہنے پر شیخ سے وعدہ کر لیا
کچھ دن بعد وہ مرید اپنے پڑوس کی ایک لڑکی سے بدکاری میں مبتلاء ہوگیا لڑکی نے اپنے باپ کو بتا دیا باپ نے قاضی کے پاس مقدمہ دائر کر دیا قاضی نے بلایا
مرید سے پوچھا
مرید نے کہا یہ سچ کہ رہا ہے قاضی نے کہا اس مرید کی عقل خراب ہے ورنہ کوئی باشعور بدکاری کا اقرار نہیں کر سکتا لہذا اسے مارستان (ہسپتال) لے جاؤ علاج کرو
پھر کچھ عرصے بعد کسی نے مرید کی سفارش کی تو قاضی نے اسے آزاد کر دیا
یعنی سچ بولنے کی وجہ سے سزا سے بچ گیا

° سچ بولنا حق بات کہنا سنتِ الہیہ ہے اور جو یہ اختیار کرے گا دارین میں کامیاب ہوگا °

جو بندہ اللہ کے رنگوں میں سے زیادہ رنگوں میں رنگا جائے گا وہ اللہ تعالیٰ کا اُتنا زیادہ مقرب ہوگا

صِبْغَةَ اللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ
اللہ کا رنگ تو اللہ کے رنگ سے اچھا کس کا رنگ ہے اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں

عرائس البیان میں ہے
اللہ رب العزت نے آدم علیہ السلام کو اپنی محبوب صورت پر پیدا فرمایا تو یہ ظاہری صورت ظاہری رنگ ہے
اور پھر اللہ رب العزت نے آدم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو دل جیسی عظیم شے عطاء فرمائی یہ باطنی رنگ ہے
اسی وجہ سے ملائکہ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا
اور آدم علیہ السلام کی یہ دونوں صفتیں (ظاہری صورت اور دل) ان کی اولاد کی ارواح یعنی انبیاء کرام علیھم السلام اور اولیاء پاک کو عطاء فرمائیں۔انتھی
اسی وجہ نیک لوگ ظاہری و باطنی طور پر حسین و جمیل ہوتے ہیں

بحر المدید میں ہے
صبغۃ اللہ سے مراد اللہ رب العزت کی خاص صفت ہے جس پر اس نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا
امام قشیری نے فرمایا
دلوں کا رنگ ہوتا ہے روحوں کو رنگ ہوتا ہے باطن کا رنگ ہوتا ہے ظاہر کا رنگ ہوتا ہے
جسم و ظاہر کا رنگ اطاعت کی توفیق ہے
(یعنی ظاہری شریعت پر عمل)
اور روح و باطن کا انوار و تجلی میں نہانا
انتھی

حق بات کہنا, حلم و علم, عفو و رحمت, پردہ پوشی یہ صفاتِ الہیہ بھی ہیں اور صفات نبویہ بھی ہیں
تو جو ان صفات سے متصف ہوگا اللہ کا مقرب ہوگا اور اللہ ایسے انسان کو عذاب نہیں دے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top