تمام انبیاء کرام نے بکریاں چرائیں اس کی حکمت

تصوف_وصوفیاء 40

°°° قطبِ وقت کی ایک عجیب و غریب نشانی °°°

امام اجل عارف باللہ عبد الوھاب الشعرانی نے اپنی کتاب مستطاب الیواقیت والجواھر کے پینتالیسویں باب کا عنوان قائم کیا کہ
° صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بعد اس امت کا سب سے بڑا ولی قطب ہوتا ھے °
پھر امام شعرانی نے امام ابو الحسن شاذلی جو اکابر اولیاء سے ہیں ان کا فرمان نقل کیا ہے
“قطب کی پندرہ نشانیاں ہیں “

جب ایک نشانی پر میری نگاہ پڑی تو خوشگوار حیرت ہوئی اور دل بہت محظوظ ہوا
فرمایا
کثیر النکاح راغب فیہ و محب للنساء یوفی الطبیعۃ حقھا علی الحد المشروع و یوفی الروحانیۃ حقھا علی الحد الالہی!
کثیر نکاح کرنے والا ہوتا ہے
نکاح میں رغبت رکھنے والا ہوتا ہے اپنی بیویوں سے محبت کرنے والا ہوتا ہے
اپنی طبیعت کو حدودِ شریعت میں رہ کر حق دینے والا ہوتا ہے
اور اپنی روحانیت کو حدودِ الٰہی میں حق دینے والا

کثرتِ نکاح کو ہندوانہ ماحول کی وجہ سے بر صغیر میں ایک طعنہ بنا دیا گیا ہے

جبکہ صحابہ کرام میں سے ایک یا دو ایک صاحب ہوں گے جنہوں نے ایک شادی کی ہو ورنہ دو تین چار تک شادیاں کرتے رھے تھے
امام نووی نے اربعین میں لکھا
اعلم ان شھوۃ الجماع احبھا الانبیاء و الصالحون
جان لو جماع کی شہوت انبیاء کرام علیہم السلام اور نیک لوگوں کی پسندیدہ شہوت ہے

فرمایا
کیونکہ اس سے دینی و دنیاوی کثیر فائدے ہیں نظر غیر کی طرف نہیں اٹھتی اور اولاد حاصل ہوتی ہے
مزید فرمایا کہ
••• دنیا کی تمام شھوات جب پوری ہوں تو دل سخت ہوتا ہے جیسے کھانا زیادہ کھا لو گو سستی طاری ہوتی ہے مگر یہ جماع کی شھوت ایسی ہے جب پوری ہو تو دل نرم ہوتا ہے •••
امام ابن عقیل دنیائے تصنیف کے شہسوار ہیں
انہوں نے کتاب الفنون نو سو جلدوں پر لکھی ہے
یہ جب کسی مسئلہ میں الجھ جاتے , مسئلہ حل نہ ہو رہا ہوتا تو بیوی کے پاس جاتے قضائے شہوت کرتے مسئلہ فوری حل ہو جاتا
اس کی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے بیوی میں سکون و راحت رکھی ہے
اسی لیئے قطب ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں کہ نظر غیر کی طرف نہ اٹھے اور دل میں نرمی برقرار رہے

طبیعتِ انسانی اور مزاجِ مرد کے جو واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مرد کی طبعیتِ سلیمہ میں ایک شادی پر گزارہ نہیں ہے
دوسری وجہ قطب کے زیادہ شادیاں کرنے کی شاید تربیت کا حصول ہوتا ہے
کیونکہ ایک عورت کے ساتھ رہنا آسان ہے
مگر دو چار سوتنوں کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہے
ان کے بیچ عدل و انصاف قائم رکھنا نماز روزے کی پابندی کرنا کروانا رزق حلال کھانا کھلانا
قوا انفسکم و اھلیکم نارا
آگ سے خود بھی بچو اور گھر والوں کو بھی بچاؤ
والے فرمان خدا پر عمل کرنا یہ سب تربیت کمال پیدا کرتی ہے
جیسا کہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ہر ایک نے بکریاں چرائی ہیں
اس کی حکمت یہی تھی
کہ ان پاک ہستیوں کو بے زبان جانوروں کی تربیت پر مہارت حاصل ہو جائے گی تو انسانوں کو بآسانی سنبھال کر چلائیں گے!
جیسا کہ روایت میں آتا ہے کہ
موسی علیہ السلام کی ایک بکری بھاگ نکلی آپ علیہ السلام اس کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگے حتی کہ وہ تھک کر رک گئی اور آپ علیہ السلام بھی خوب تھک گئے
اور جب آپ نے بکری کو پکڑا تو اس کے کھروں سے خون بہ رہا تھا
آپ اپنی تھکاوٹ بھول کر اس بکری کی مریم پٹی کرنے لگے
اور اگر وہاں کوئی اور عام انسان ہوتا وہ بکری کو خوب مارتا پیٹتا
مگر وہ حضرت موسی جلالی نبی ہونے کے باوجود بے زبان سے محبت فرما رہے تھے

تو جس طرح انبیاء کرام کی تربیت بکریوں سے ہی جاتی تھی ویسے ہی اقطاب کی تربیت بیویوں سے کی جاتی ہے
امام شعبی کا فرمان ہے
ایک بیوی والا اپنی بیوی کی طرح ہی ہے
بیوی بیمار تو یہ بھی بیمار بیوی کو حیض و نفاس تو اس کو بھی وہی مسئلہ
دو بیویوں والا دو انگاروں کے بیچ ہے ہر ایک جلانے کی کوشش کرتا ہے
تین والا متردد جبکہ چار والا ہر روز دولہا ہوتا ہے

دو انگارہ ہوں یا چار بہر صورت مرد پر آزمائش ہوتی ہے
اور جو اس آزمائش کو عدل و انصاف سے پورا کرے وہ مقبولِ بارگاہِ الٰہی بندہ ہے

اور یہ آزمائش اقطاب پوری کرتے ہیں
تبھی ان کی ایک علامت زیادہ شادیاں کرنا بھی ہے
قطب کی جو علامات ہمارے بس میں ہے ہم کوشش کریں اپنے اندر وہ پیدا کریں
(یعنی کثرتِ نکاح)
اور جو ہمارے بس میں نہیں اللہ رب العزت اپنے کرم سے پیدا فرما دے گا

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top