تصوف_وصوفیاء 25
ابراھیم حربی فرماتے ہیں
سیدی معروف کرخی کی قبر مبارک حاجتوں اور تمناؤں کو پورا کرنے والی ہے
اور یہ تجربہ شدہ امر ہے
ابراھیم حربی بہت بڑے محدث جبکہ معروف کرخی عظیم محدث اور مشہور ولی اللہ ہیں
ابن محاملی کہتے ہیں
ستر سال سے میں جانتا ہوں کہ جو پریشان حال سیدی معروف کرخی کی قبر پر آتا اللہ تعالی اسکی پریشانی دور کر دیتا ھے
مجتہدِ مطلق عالمِ قریش امام شافعی امام الائمہ ابو حنیفہ کے بارے فرماتے ہیں
مجھے جب کوئی مسئلہ در پیش ہو تو امام ابوحنیفہ کی قبر پر آکر یعنی انکی مسجد میں دو رکعت پڑھ کر دعاء کرتا ہوں تو مسئلہ حل ہوجاتا ھے
اولیاء و صلحاء کے مزارات سے فیض لینا اسلافِ امت کا طریقہ کار رہا ھے
مگر مزار پر جاکر ایسے حاضری دی جائے کہ کسی کو اعتراض کا موقع نہ ملے بلکہ آپ کو دیکھ کر لوگ کشش محسوس کریں کہ یہ طریقہ ہے جو کہ شریعت کا پسندیدہ ہے
صاحبِ مزار جتنا بڑا ولی ہو حتی کہ نبی ہوں قبر مبارک کو سجدہ کرنا اور طواف کرنا حرام ہے
اولیاء کرام آپ کی انکی حرکات سے ناراض ہوتے ہیں فیض نہیں دیتے ہیں
بلکہ علماء نے فرمایا کہ کسی ولی کی قبر پر جاؤ تو چار گز دو کھڑے رہو کہ ادب یہی ہے
جو مزارات پر جانے منع کرتے ہیں وہ غلط سوچتے ہیں
ہم سنیوں نے اپنے پاس سے آج کا عقیدہ نہیں بنایا بلکہ صدیوں سے تابعین, تبع تابعین علماء و محدثین کہ جن کے بغیر آپ دین میں ایک قدم آگے نہ چل سکیں اُن اولیاء کرام کے ہزاروں فرامین و واقعات ہیں جن سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے نیک لوگوں کے مزار پر جا کر ان کے وسیلے سے دعاء کرنا جائز ہے
ہزاروں علماء و محدثین کو جھٹلا کر آپ شیطان کو راضی کر سکتے ہیں دینِ اسلام کے شیدائی قرار نہیں پا سکتے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
