شان صدیق اکبر اور اولیاء کرام

تصوف_وصوفیاء 16

امام اجل امام عبد الوھاب الشعرانی  {متوفیٰ 983 ہجری}
الجواہر والدرر میں

ایک سوال قائم کر کے جواب دیتے ہیں

سوال جیسے صوفیاء اشاروں میں بات کرتے ہیں ایسے اشاروں میں بات کرنا نبی ﷺ سے کیوں ثابت نہیں 

جواب دو طرح ہے

اول 

حضور نبی کریم ﷺ تمام انسانوں کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے اس لیئے عوام کے سمجھ بوجھ کا لحاظ کرتے ہوئے آسان الفاظ میں صرف حکمِ خدا بیان فرماتے , لطیف اشاروں سے گفتگو نہ فرماتے تھے

دوم 

حضور ﷺ نے کبھی کبھار ایسی گفتگو بھی فرمائی جیسی صوفیاء کرتے ہیں

یعنی ایسا انداز کہ صرف خواص ہی سمجھ سکیں
اس حوالے سے شیخ تاج الدین  جن کی جلالتِ علمی مسلم ہے امام تاج الدین سبکی  بھی جن علمیت کی گواہی دیتے ہیں ان سے ایک روایت نقل کرتے ہیں

ایک بار حضور سیدِ عالم ﷺ نے صدیق اکبر کو فرمایا

اتدری ماذا اسائلک عنہ
کیا جانتے ہو میں کس بارے میں تم سے بات کر رہا ہوں

صدیق اکبر رضی الله عنہ نے عرض کیا
ھو ذاک
اس بارے

فرمایا
ھو ذاک

ہاں اسی بارے

یہ راز و نیاز کا انداز وہی ہے جو صوفی استعمال کرتے ہیں

پھر امام شعرانی  نے ایک اور روایت نقل کی
اس روایت کو
امام ابوالفرج نورالدین حلبی  {متوفیٰ 1044ہجری} نے بھی
شیخ المشائخ ابوالعباس المرسی  کے حوالے سے نقل کیا

حضور سید عالم ﷺ نے صدیق اکبر کو فرمایا
اے صدیق تمہیں وہ فلاں دن یاد ہے؟؟؟

صدیق اکبر نے عرض کیا اُس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو سچا رسول بنا کر بھیجا
آپ یومِ مقادیر کے بارے پوچھ رہے ہیں 

یعنی الست بربکم جس دن اللہ نے  وعدہ لیا اس دن کے بارے پوچھ رہے ہیں
میں نے آپ ﷺ کو وہاں فرماتے سنا 
آپ فرمارہے تھے
اشہد ان لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ
صلی الله علیہ وسلم

پیر مہر علی شاہ  رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

کن فیکون تاں کل دی گل اے اساں اگے پریت لگائی
توں میں حرف نشان نہ آہا جدوں دتی میم گواہی

عام انسانوں کو عالمِ ارواح کے معاملات یاد نہیں مگر اکابر اولیاء کرام کو یاد ہوتے ہیں

طبرانی میں ایک حدیث ہے 

حضور نبی کریم ﷺ
حضرت حارثہ  کے پاس سے گزرے پوچھا
کیف اصبحت یا حارثہ
انہوں نے  عرض کیا
كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَرْشِ رَبِّي بَارِزًا  وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَزَاوَرُونَ فِيهَا  وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ النَّارِ يَتَضَاغَوْنَ فِيهَا  فَقَالَ يَا حَارِثُ عَرَفْتَ فَالْزَمْ ثَلاثً

میں نے صبح ایسے کی گویا میں اپنے رب کے عرش کو صاف دیکھ رہا ہوں
گویا جنتیوں کو دیکھ رہا ہوں آپس میں گلے مل رہے ہیں
جہنمیوں کو دیکھ رہا ہوں جو چیخ پکار کر رہے ہیں
حضور ﷺ نے فرمایا
اے حارثہ تو نے پہچان لیا تیری معرفت کامل ہوگئی اسی کو لازم پکڑے رکھنا یہ تین بار فرمایا

الحمد للہ
اللہ والوں کا کوئی کام سنت رسول ﷺ سے ہٹ کے نہیں ہوتا
اب نیا نیا مسلم ان باتوں کو مانے یا نہ مانے کوئی فرق نہیں پڑتا 
صوفیاء کا ایسے لہجوں میں بات کرنا انکی بناوٹ نہیں بلکہ صحابہ کا طریق ہے
ا✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top