تصوف_وصوفیاء 4
سیدی جنید بغدادی سے پوچھا گیا
کیسے معلوم ہوگا ہم پہ آنے والی بلاء (مصیبت و تکلیف) اللہ تعالی کی طرف سے غضب ھے
یا گناہوں کا کفارہ ھے
یا درجات کی بلندی کا سبب ھے
فرمایا
تم بلاء کا استقبال کیسے کرتے ہو اُس سے معلوم ہوجاتا ہے
اگر بلاء آنے پہ تمہیں غصہ آجائے تو سمجھو اللہ کا غضب ہے
اگر بلاء آنے پہ زبان پہ توبہ و استغفار جاری ہو تو گناہوں کا کفارہ یعنی بلاء گناہوں کو مٹانے والی ہے
اگر بلاء آنے پہ تم اللہ کی تقدیر پہ راضی ہو تو یہ تمہارے لیئے درجات کی بلندی کا سبب ہے
شیخ احمد کبیر رفاعی فرماتے ہیں
بلاء (مصیبت و تکلیف) کی دو قسمیں ہیں
پہلی قِسم
اللہ کی طرف سے عزت و مرتبہ
دوسری قِسم
اللہ کی طرف سے ذلت و رسوائی
ہر وہ تکلیف و مصیبت جو بندے کو اللہ تعالی کے قریب کر دے وہ عزت و تکریم ھے (یعنی بندہ توبہ و ذکر خدا کرنا شروع کر دے)
اور جس مصیبت و تکلیف پہ بندہ واویلا و جزع و فزع و شکوہ و شکایت شروع کر دے
وہ اللہ کی طرف سے بندے پہ ذلت و رسوائی ھے
ہم غور کریں
بلاء و مصیبت آنے پہ کیا کرتے ہیں
کوئی انسان ایسا نہیں جسے مصیبت سے واسطہ نہ پڑے
اور کوئی انسان مصیبت و تکلیف کو خود سے دفع کرنے کی قوت بھی نہیں رکھتا
مومن حسنِ نیت سے مصیبت سہتا ہے اور حسنِ تدبیر سے مصیبت دفع کرنے اور بلاء رفع کرنے کی کوشش کرتا ہے
مومن پہلے دعاء کرتا ہے کہ مصیبت آئے ہی نہیں
رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ
اے ہمارے رب ہم پر ہماری طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ لاد
اور ساتھ میں یہ عقیدہ ہوتا ہے
لا حول ولا قوۃ الا باللہ
کسی شے سے بچنے کی طاقت اور کسی کام کو کرنے کی طاقت صرف الله کی مدد سے ہی ہے
پھر اگر مصیبت آن پڑے تو
تو یوں پکارتا ہے
وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ
ہم سے در گزر فرما ہمیں معاف فرما اور ہم پر رحم فرما
پھر مصیبت آ جائے اور جانی یا مالی نقصان کر جائے تو مومن ہوں کہتا ہے
انا للہ و انا لیہ رجعون
ہم الله ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
ایک اہم بات ذہن نشین کر لیں تو زندگی آسان ہو جائے گی
مؤمن پر آنے والی ہر مصیبت اس کے لیئے فائدہ مند ہے
اس مصیبت کے سبب مومن کے گناہ معاف ہوں گے یا درجات بلند ہوں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
