مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 28
قرآن کریم میں مہلت دینے کے لیئے تقریباً چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں
{1} الارجاء
یہ مہلت میں تاخیر مع فرصت کے لیئے استعمال ہوا ہے
قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآىٕنِ حٰشِرِیْنَ
فرعون کے درباری بولے موسیٰ اور اس کے بھائی کو مہلت دے اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے
یعنی ان دونوں بھائیوں کو کچھ وقت کی مہلت دے جس میں یہ اپنا کام کر لیں
{2{ الامھال
کسی کام کو بطور تھدید موخر کرنا ہے
اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا
انہیں کچھ مہلت دو
یعنی مہلت دینا بطور تھدید ہے کہ یہ پھر دیکھ لیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا
{3} الانظار
کڑی نگرانی کے نیچے مہلت کا وقت دینا
قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ
شیطان بولا مجھے اس وقت تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے
یعنی مجھے اپنی نگرانی میں مہلت دے تاکہ تیرے بندوں کو گمراہ کر سکوں جن کی وجہ سے میں رسوا ہوا
{4{ الاملاء
مہلت دینا تاکہ گناہوں کے مرض میں پڑے رہیں اور اچانک پکڑ ہو
وَ اُمْلِیْ لَهُمْؕ-اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ
اور میں انہیں مہلت دوں گا بے شک میری خفیہ تدبیر پختہ ہے
یعنی ان کو مہلت اس لیئے دی گئی تاکہ وہ اچانک عذاب کا شکار ہوں
مہلت کے لیئے استعمال مختلف الفاظ مختلف معنی رکھتے ہیں اور ان کا لطف وہی جان سکتا ہے جو معانی کی باریکیوں کو سمجھتا ہے
سب سے بڑا عالم وہی ہے جو قرآن کریم کے الفاظ کے معانی زیادہ جانتا ہے
ہر ہر لفظِ قرآن کے تحت ہزاروں علوم کے سمندر موجزن ہیں
علماءِ ظاہر فقہی احکام اخذ کرتے ہیں مگر علماءِ باطن یعنی اکابر اولیاء کرام فقہی احکام کے ساتھ کلماتِ قرآن سے غیب کی خبریں اخذ کرتے ہیں کیونکہ قرآن کریم میں اولین و آخرین کے علوم جمع ہیں
اسی وجہ سے اولیاء افضل العلماء ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
