مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 27
لغتِ عرب میں غبار کی مختلف کیفیات کے لحاظ سے الگ الگ نام ہیں
جب غبار گھوڑوں کے سُموں سے اڑتا ہے تو اسے نَق٘عٌ کہتے ہیں
قرآن کریم جہاد کے گھوڑوں کی قسم یاد فرمائی
فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا
تو اس وقت غبار اڑاتے ہیں
جب ہوا غبار اڑائے تو اسے عَجاجٌ کہتے ہیں
شاعر نے کہا
هَذَا عَجاجٌ فأَين الأُفقُ وَهو فتًى وَتلكَ خَيلٌ فأَينَ الأَرضُ وَهي دَمُ
یہ گرد ہے تو افق کہاں ہے جبکہ وہ نوجوان ہے یہ گھوڑے ہیں زمین کہاں ہے جبکہ وہ خون ہے
جب جنگ کے میدان میں غبار اڑے تو اسے رَھَجٌ اور قَسطَلٌ کہتے ہیں
شاعر نے جذبہ دلاتے ہوئے کہا
فاختر لنفسك منزلا تعلو به
أو مت كريما تحت ظل القسطل
اپنے لیئے ایسی منزل تلاش کرو جس کے ذریعہ بلندی پا سکو یا پھر میدانِ جنگ میں غبار کے نیچے عزت کی موت مر جاؤ
اور جب انسانی قدموں سے غبار اڑے تو اسے عِثیرٌ کہتے ہیں
اور مطلق ہوا میں اڑنے والے ذرات کو غبار کہا جاتا ہے
اردو میں غبار اور خاک بھی کہتے ہیں
ہم خاک اڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی
آباد رضاؔ جس پہ مدینہ ہے ہمارا
مزید دعاء ہے
اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں
یہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
