مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 20
°°° مولا علی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دَیّان ہیں °°°
تاج العروس میں ہے
المُل٘کُ ھو التَصَّرفُ
ملک کا معنیٰ تصرف کرنا ہے
مقاییس اللغة لابن الفارس میں ہے
الميم واللام والكاف أصلٌ صحيح يدلُّ على قوّةٍ في الشيء
میم لام کاف اصل ہے صحیح ہے یہ مادہ کسی شے میں قوت پر دلالت کرتا ہے
یعنی میم لام کاف جس کلمے میں ہوگا اس کلمے میں طاقت اور غلبے کا معنی ہوگا
یہی وجہ ہے مُلک چلانے والے شخص کو مَلِک یعنی بادشاہ کہتے ہیں
کیونکہ اس میں تصرف کی قوت اور غلبہ سب سے زیادہ ہوتا ہے
فرشتے کو مَلَک کہتے ہیں کیونکہ فرشتے میں قوت و غلبہ ہوتا ہے
تاج العروس میں امام راغب اصفہانی کا قول ہے
مَلَک یہ مُل٘ک سے ماخوذ ہے یہ لفظ مَلَک ہر فرشتے کے لیئے استعمال نہیں ہوتا بلکہ ان فرشتوں کے لیئے استعمال ہوتا ہے جو نظامِ کائنات چلانے والے ہیں جو مُدَبِّر یعنی کاموں کی تدبیر کرنے والے ہیں
مثلاً بارش برسانے, بیج سے پودا نکالنے, ماں کے پیٹ میں بچہ بنانے, رزق پہنچانے کا کام کرتے ہیں
ان کو مَلَک کہا جاتا ہے
جیسے انسانوں میں مُل٘ک کا نظام چلانے والے کو مَلِک یعنی بادشاہ کہتے ہیں
ہر مَلَک ملائکہ ہے اور ہر ملائکہ مَلَک نہیں ہے
جیسے مَلَکُ الموت کہ ان کے ذمہ موت دینا ہے
تو مُل٘ک کا معنی ہوا جہاں کسی کا تصرف چلتا ہو کسی ایک کا غلبہ ہے
اور اس غلبے والے کو مَلِک یعنی بادشاہ کہیں گے
اب رہا کہ مدینہ کسے کہتے ہیں
*لفظ مدینہ دَین سے ماخوذ ہے *اور دَین کا معنی غلبہ ,حکم اور کاموں کی تدبیر کرنا ہے*
قرض کو دَین اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ مقروض پر غلبہ پا لیتا ہے
الله رب العزت کا ایک مبارک نام الدیان ہے
جس کا معنی ہے فیصلہ فرمانے والا
لسان العرب میں ہے
ایک بذرگ سے مولا علی کے بارے پوچھا گیا تو فرمایا
كان دَيّانَ هذه الأُمة بعد نبيها أَي قاضيها وحاكمها
علی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے دیان ہیں یعنی امت کے سب سے بڑے قاضی و حاکم
❗لسان العرب ❗
بیہقی میں ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
وأقضاهم عليٌّ
میرے صحابہ میں سب سے بڑے قاضی علی ہیں
یہی وجہ ہے مولا علی نے کبھی فیصلہ کرنے میں غلطی نہیں کی بلکہ عمر فاروق اعظم جیسی اعلیٰ ہستی فرماتی ہے
لولا علی لھلک عمر
اگر علی نہ ہوتا عمر ہلاک ہو جاتا
❗العقد الفرید ❗
ایک جگہ فرمایا
أعوذ بالله من معضلة ليس لها أبو الحسن
میں الله کی پناہ مانگتا ہوں اس فیصلے سے جس میں ابو الحسن علی موجود نہ ہوں
❗ الاستیعاب لابن عبد البر ❗
مقاييس اللغة لابن الفارس میں ہے
لأنّها تقام فيها طاعةُ ذَوِي الأمر
شہر کو مدینہ اس لیئے کہتے ہیں کیونکہ اس میں حکمرانوں کی اطاعت کی جاتی ہے
❗مقاییس اللغہ ❗
کیونکہ لفظِ مدینہ دَین سے نکلا ہے اور دین کا معنی اوپر بیان ہوچکا ہے کہ قہر و غلبہ ہے
اب رہا کہ قریہ کسے کہتے ہیں
تو قریہ قرار سے ماخوذ ہے جس کا معنی ٹھہراؤ ہے
کیونکہ لوگ یہاں ٹھہر کر آباد ہوتے ہیں اسی وجہ سے اسے قریہ کہتے ہیں
قرآن کریم میں ہے
اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا
الله ہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیئے ٹھہرنے کی جگہ بنایا
دوسری جگہ پر ہے
قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ
تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو
تو معلوم ہوا قریہ ٹھہرنے قرار پکڑنے اور سکونت اختیار کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں
اب رہا محلہ کسے کہتے ہیں
تو یہ حلل سے سے ماخوذ ہے لسان العرب میں ہے حلل کا معنیٰ گرہ کھولنا ہے
اور حلول کا معنی نزول ہے
جس جگہ لوگ اپنا سامان کھول دیں اور نزول کر کے آباد ہو جائیں اسے محلہ کہتے ہیں
اللہ رب العزت ہمارے ملک و مدینہ کو آباد رکھے
ہمارے محلے کو شاد رکھے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
