لفظِ درویش

مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 15

لفظِ دَرْوَی٘ش اردو میں فقیر دنیا سے بے رغبت شخص کے لیئے استعمال ہوتا ہے
یہ اصل میں فارسی اور پھر معرب ہو کر عربی میں استعمال ہونے لگا ہے
درویش کا اصل تلفظ کیا اور اس کا معنی کیا ہے؟
ایک قول میں درویش اصل میں در یعنی دروازہ اور وَیش اصل میں پیش تھا جس کا معنی بنتا ہے در پر حاضر ہونے والا کیونکہ عربی میں پ نہیں لہذا اس کی جگہ واؤ کا بدل دیا تو یہ دَر٘وَیش بن گیا
{ معجم الکلمات المعربہ
کچھ کے مطابق یہ دروِیش تھا اب دَروَیش استعمال ہونے لگا ہے
اور کچھ کے مطابق یہ دُروَیش تھا دُر یعنی موتی اور ویش سامنے تو معنی ہوا سامنے کا موتی
پہلا معنی ہی قرینِ قیاس ہے کہ درویش کا معنی در پر حاضری دینے والا ہے
کیونکہ درویش کا دل و دماغ و روح ہر وقت بارگاہِ الٰہی میں حاضر رہتی ہے اسی لیئے اسے درویش کہتے ہیں
درویش وہ ہوتا ہے جو موتیوں کو مینگنیوں جتنی اہمیت دے اور علمی جواہر لٹائے
یاد رکھیں علمیت و عملیت درویش کی شرطِ اول ہے
جاہل و گندگی پسند درویش نہیں ہوتا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top