نساء اور نسا میں فرق

مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 11

لفظ نُِسوۃ دونوں طرح پڑھنا جائز ہے مگر نِسوۃ پڑھنا زیادہ بہتر ہے
نُِسوان دونوں طرح پڑھنا درست ہے مگر نِسوان پڑھنا افصح ہے
چاروں صورتوں میں اسم جمع ہے جس کا واحد کوئی نہیں ہے
یعنی کثیر پر بولا جاتا ہے تو جمع ہوا مگر اس کا واحد کوئی نہیں ہے کہ جس سے یہ جمع بنا ہو
ہاں اس کے واحد کے لیئے امرأۃ آتا ہے
اور لفظِ نساء یہ بھی نسوۃ اور نسوان کی طرح اسمِ جمع ہے
اور ایک قول ہے کہ نساء نسوۃ کی جمع مکسر ہے اسی وجہ سے یہ غیر منصرف ہے
نسوۃ کی طرف نسبت کی جائے تو نَس٘وی یا نُسوانی کہا جاتا ہے
اردو میں نِسوانی کہتے ہیں جس سے عورت کا سینہ تعبیر کرتے ہیں
نسوانیت کہتے ہیں جس عورت کا ابھار زیادہ ہو
عرق النَسا سرین سے اٹھتا اور ٹانگ کے نیچے تک جاتا درد ہے
کیونکہ نَسا ایک رگ ہے جو یہاں ہوتی ہے
نَسا کے آخر میں ھمزہ بھی نہیں ہے

عموما اردو داں اسے عرق النِسا نون کے نیچے زیر دے کر پڑھتے ہیں
نَساء کا ایک معنی طویل عمر ہے
نَساء خراسان کا ایک شہر ہے
جس کی طرف مشہور محدث امام نسائی منسوب ہیں
نُِساء کا ایک معنی تاخیر بھی ہے
لغت کی مشہور کتاب الصحاح میں اھلِ عرب کا مقولہ ہے
من سره النساء ولا نساء فليخفف الرداء وليباكر الغداء وليقل غشيان النساء
جسے پسند ہو اس کی عمر طویل ہو
{یہاں نساء سے مراد عورتیں نہیں عمر کا طویل ہونا ہے }
وہ قرض کی چادر ہلکی کرے , صبح سویرے اٹھا کرے, اور جماع کم سے کم کرے

الغرض نُِساء اور نُِسوہ میں فرق ملحوظ رکھیں
یہی محقق مدقق کی شان ہے کہ اسے معلوم ہو یہاں کونسا معنی ہوگا

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top