آل_رسول_محبوبِ_رسول 15
ہدایت مقصد ہونا چاہیئے نہ کہ شرارت
امام حسین سیدنا امام حسن کے پاس روتے ہوئے حاضر ہوئے اور ہنستے ہوئے باہر نکلے
محبت کرنے والوں نے اس عجیب کام کا سبب پوچھا تو فرمایا
میں امام کے پاس حاضر ہوا تاکہ ان کو کچھ سمجھاؤں کہ کس چیز نے آپ کو خلافت سے دستبردار ہونے پر ابھارا ہے؟
امام حسن نے فرمایا
جس چیز نے تیرے باپ کو خلافت سنبھالنے پر ابھارا تھا
❗ الاجوبة المسكتة لابن ابى عون متوفی 322 ھجری ❗
بڑی لاجواب کتاب ہے جس میں نادر جواب درج ہیں جو سامنے والے کو لاجواب کر دینے والے ہوتے ہیں
امام حسن مجتبی بڑے بھائی ہیں علم و فضل میں امام حسین سے بلند ہیں ایسا جواب دیا کہ روتے بھائی کو ہنسنے پر مجبور کر دیا
اور حق بات فرمائی کہ میں نے خلافت مسلمانوں کے بھلے کے لیئے ترک کی جس طرح ہمارے باپ مولا علی نے مسلمانوں کے بھلے کے لیئے خلافت سنبھالی تھی
جبکہ مولا علی کو نہ خلافت کی طمع تھی نہ خلافت نے مولا علی بلند مقام دیا اور نہ خلافت سے مولا علی کہ عزت میں اضافہ ہو سکتا تھا
جیساکہ امام اھل سنت احمد بن حنبل فرماتے ہیں
إن الخلافة لم تزين عليّا بل علي زينه
خلافت نے علی کو زینت نہیں بخشی بلکہ علی نے خلافت کو زینت بخشی ہے
❗مناقب امام احمد لابن الجوزی ❗
ایک رافضی نے امام احمد کا یہ قول سنا تو کہنے لگا اس قول کی وجہ سے احمد بن حنبل کا نصف بغض میرے دل سے کم ہوگیا
یوں کہا کرتے ہیں سنی داستانِ اھلِ بیت!
امام اھل سنت احمد بن حنبل کا طریق نہایت پراثر تھا اور یہی ہونا چاہئے
بجائے روافض کو چِڑھانے کے اس طرح اھلِ بیت کی شان بیان کریں کہ ان کے دلوں سے اھلِ سنت کا کینہ ختم ہوتا جائے
جبکہ ہمارے ہاں متشدد مزاج سوشلی متجاہد شانِ صحابہ بھی بیان کرتے ہیں تو چِڑھانے کو جو کہ مزاجِ اسلام نہیں نہ اسلاف کا طریقہ ہے
ان متجاہدین کا اسلوب دیکھ کر قریب آتا ہوا بھی دور بھاگ جاتا ہے
آپ بتائیں مقصد کیا ہے؟
شانِ صحابہ بیان کرنا ہے یا ہدایت پھیلانا ہے؟
بس یہ نکتہ سمجھ جائیں تو مسئلہ حل ہو جائے
حکمت سے لوگوں کو سنی بنانا ہدایت پھیلانا ہے نہ کہ دل جلانا اور دور کرنا ہے
اب ہمارے ہاں متجاہد جو کلمات بولتے لکھتے ہیں وہ سن لیں
اور خود اندازہ کریں یہ الفاظ قریب لانے والے ہیں
فلاں کی چھترول, متعہ کی پیداوار , مجوسی , کالے , کھٹمل وغیرہ وغیرہ
آپ کسی متعدل عالم کو ایسے الفاظ استعمال کرتے نہیں سنیں گے
مقصد اصلاح ہونی چاہیئے نہ کہ شرارت
✍️ #سیدمہتاب_عالم
