طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 17
•••• علوم آلی کی اہمیت •••
الفروق الغویة یہ ایسی کتاب ہے جس سے نہ علماء مستغنی ہوسکتے ہیں نہ طلباء اس سے توجہ ہٹا سکتے ہیں
ابو بلال حسن بن عبد اللہ عسکری کی لاجواب تحریر جو ان کو تاقیامت زندہ کر گئی ہے
اس میں انہوں نے وہ الفاظ جو عموماً مترادف سمجھے جاتے ہیں مگر حقیقتاً ان کے معنی میں فرق ہوتا ھے ان الفاظ کی نشاندھی کی ہے
مثلاً
حق و صدق،
فقر مسکنۃ،
حال و صفت،
عز و شرف،
سید و کبیر،
مالک و ملک،
عظیم و کبیر،
اعانۃ و نصرت،
فضل و احسان
وغیرہ سینکڑوں الفاظ کا علمی و ادبی فرق واضح کیا ہے
اور یہ فرق عام عالم کو پریشانی میں تب ڈالتا ہے جب وہ اصول کی کتاب یا فقہ کی متون یا عقائد کی کتب پڑھتا ہے
کیونکہ ان کتب میں ایک ایک لفظ پہ گرفت ہوسکتی ہے کیونکہ اصولیین اپنی کتب میں ہر ہر لفظ کا لحاظ کر کے لکھتے ہیں
مثلا عام طور پر حق و سچ ایک معنی میں بولا جاتا ھے مگر اھل علم خاص طور پر اھل اصول کی نظر میں واضح فرق ہے
اسی وجہ عام عالم چکرا جاتا ہے
اگر آپ نے علوم و فنون میں پختگی حاصل کرنی ہے تو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں
ذہن کھلے گا علم راسخ ہوگا اور فنی اغلاط سے بچت رہے گی
یاد رکھیں فنی کتاب لکھنا نہایت مشکل کام ہوتا ہے حتی کہ ایک فنی کتاب سالوں میں تیار ہوتی ہے
اور پھر فنی کتاب پڑھنا بھی مشکل کام ہوتا ہے کہ ماہر استاذ ہی پڑھا سکتا ہے
آپ فنی کتب سے مراد علومِ آلی مراد لے سکتے ہیں کہ جن کو سیکھنا اصلِ مقصد تو نہیں ہوتا مگر مقصد تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہوتے ہیں
مثلاً ایک کمرے کی چھت پر جانا ہو تو سیڑھی موجود ہے جو کہ ایک ذریعہ ہے اوپر جانے کا مگر اصل مقصد سیڑھی نہیں چھت ہے
تو اسی طرح قرآن و حدیث سمجھنے کے لیئے علومِ آلی حاصل نہ کرنے والا شریعت سمجھنے کا دعویٰ کرے پرلے درجے کا جاہل و احمق ہوتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
