طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 6
بعض فقہاءِ کرام نے فرمایا ہے
جسے استاذ میسر نہ ہو وہ کتابوں سے تعلق بنا لے
علماءِ اسلام نے ہر موضوع پر کتابیں لکھی ہیں اور ہر کتاب ایک استاذ کا درجہ رکھتی ہے
یہ بات یاد رکھیں جس کے استاذ زیادہ ہوں اس کا علم پختہ اس کی سوچ راسخ اس کی عقل مضبوط ہوتی ہے
دنیا میں میسر عربی کتب اتنی ہیں کہ روز ایک کتاب پڑھیں تو آپ کی عمر ختم ہو جائے کتابیں ختم نہ ہوں
تو بس شروع ہو جائیں
صرف ایک سال روز ایک کتاب کے چند صفحات پڑھیں سال بعد آپ کی عقل پہاڑ آپ کا علم بحر بے کنار ہوگا
آزما لیں مجھے دعاء دیں گے
کتاب مصنف کی عقل کا نچوڑ ہوتی ہے
مجھے روانہ بے شمار خیال آتے ہیں میں ہر خیال کو تحریر کی شکل نہیں دیتا بلکہ جو عمدہ ترین خیال ہوتا ہے اسے لوگوں تو پہنچاتا ہوں
اسی طرح مصنف کے ذہن میں بے شمار مسائل لاجواب دلائل ہوتے ہیں وہ صرف وہی کتاب میں بیان کرتا ہے جو اس کی عقل میں اعلی ترین ہوتے ہیں
اب غور کریں آپ ائمہ مجتہدین کی عقل کا نچوڑ پڑھیں تو آپ کی عقل میں کیا لا جواب بدلاؤ آئے گا
آپ مفسرین و محدثین کی عقلوں کا نچوڑ اپنی عقل پر انڈلیں گے تو آپ کی عقل کس پائے کی عقل بنے گی
وہ جن کی عقلوں سے یورپ نے اپنے اندھیروں کو اجالوں میں بدلا
وہ غزالی و رازی و ابن خلدون و سیوطی و ذہبی و قشیری و ہجویری و اجمیری و جیلانی رحمہم الله اُن کی عقلوں کا نچوڑ آپ اُن کی کتابوں سے اپنی عقل پر انڈلیں تو آپ کا محدود ذہن دنیا کی وسعتوں کو قبضے میں کر لے گا
یہ چند مشہور اکابر کے نام لکھے ہیں
ان کے سوا سینکڑوں علماء و فقہاء و ادباء کی کتب موجود ہیں
پڑھیں
ادیب کو پڑھنے والا ادیب کیوں بن جاتا ہے
کیونکہ ادباء کی عقل کا نچوڑ اپنی عقل پر ڈالتا ہے
فقہاء کو پڑھنے والا فقیہ بن جاتا ہے
مفسرین کو پڑھنے والا مفسر بنتا ہے
یہی وجہ ہے کہ ان کی عقول کا نچوڑ حاصل کرتا ہے
بس کتابیں پڑھیں اور اپنی عقل کو مضبوط بنائیں
یومیہ کسی بھی کتاب کے چند صفحات پڑھیں اور سال بعد اپنی عقل کی جولانی دیکھیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
