اسلامی_طرزِتربیت 221
سلطان العلماء عزالدین بن عبدالسلام فرماتے ہیں
رُبَّ فاجِرٍ مقبُولُ الدُّعاء لِشِدَّةِ تضَرّعه و قِيامِه بآدَاب الدّعاء و رُبَّ بَرٍّ مرْدودُ الدُّعاء لتقْصيرِه في القِيام بآدابه
بہت سے فاجر گریہ و زاری کی شدت اور آدابِ دُعاء کی وجہ سے مقبول الدعاء ہوتے ہیں اور بہت سے نیک آدابِ دُعاء نہ رکھنے کی وجہ سے مردود الدعاء ہوتے ہیں
❗ قواعدُ الأحْكام ❗
جب الله رب العالمین کی بارگاہ میں دعاء کریں تو رکھ رکھاؤ ایک طرف رکھ کے اپنی عزتوں کا لباس اتار کے گڑگڑا کر انتہائی عاجزی سے دعاء کریں
اُس کی بارگاہ میں مچل جائیں اور یقین رکھیں کہ دعاء قبول ہوگی
بندہ جیسا گمان اپنے رب کے ساتھ رکھتا ہے بندے کے ساتھ ویسا ہی ہوتا ہے
حدیثِ مبارکہ میں ہے
الرَّجُل يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ! يَا رَبِّ! وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لَهُ؟
آدمی سفر میں ہوتا ہے پراگندہ بال ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور یارب یارب کی صدائیں لگاتا ہے جبکہ اس کا کھانا پینا حرام اس کا لباس حرام اور اس کی غذاء حرام ہوتی ہے تو اس کی دعاء کہاں قبول ہوگی
❗ مسلم شریف ❗
حالانکہ کی مسافر کی دعاء کی خاص فضیلت ہے کہ وہ رد نہیں ہوتی
حدیثِ مبارکہ میں ہے
ثلاثُ دعوَاتٍ مُستجاباتٌ لا شَكَّ فيهنَّ دعوَةُ المظلومِ ودعوةُ المسافرِ ودعوةُ الوالدِ على ولدِهِ
تین لوگوں کی دعاء قبول ہوتی ہے ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے مظلوم کی دعاء اور مسافر کی دعاء اور باپ کی دعاء اولاد کے حق میں
❗ ترمذی شریف ❗
مسافر کی دعاء مقبول ہونے کی فضیلت کے ساتھ وہ تضرع کے ساتھ یارب یارب بھی کہتا ہے پھر بھی اس کی دعاء قبول نہیں ہوتی کیونکہ وہ حرام کھاتا پیتا ہے
دعاء کے مکمل آداب اختیار کریں تو دعاء قبول ہوگی
توجہ و تضرع کے ساتھ دعاء کرنا ادبِ دعاء ہے
حرام کھانے پینے سے باز رہنا ادبِ دعاء ہے
حدیثِ مبارکہ میں ہے
ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل لاه
اللہ رب العزت سے دعاء کرو تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ دعاء قبول ہوگی
اور جان لو کہ الله رب العزت غافل دل کی دعاء قبول نہیں فرماتا
❗ ترمذی شریف ❗
حضورِ قلبِ یکسوئی کے ساتھ دعاء کرنا ادبِ دعاء ہے
❗ خوشخبری ❗
مؤمن کی دعاء کبھی رد نہیں ہوتی
حدیثِ شریف میں ہے
مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عنهُ من السُّوءِ مثلَها قَالُوا إِذنْ نُكثرُ قَالَ الله أَكثر
جو مسلمان بھی دعاء کرے جس میں نہ گناہ کی دعاء ہو نہ ذی رحم قطع تعلقی کی دعاء ہو تو الله رب العزت اسے تین کے بدلے ایک شے دے گا
اس کی دعاء قبول فرما لے گا یا اس کی دعاء کو ذخیرہ فرما دے گا یا اس سے بلاء ٹال دے گا
صحابہ کرام نے عرض کیا تب تو ہم کثیر دعائیں کریں گے
فرمایا
اللہ رب العزت کثیر عطاء فرمانے والا ہے کثیر قبول فرمانے والا ہے
❗ مسند احمد ❗
دعاء کبھی رد نہیں جاتی لہذا اپنی حیثیت کے مطابق نہیں اُس کی عطاء کی شان کے مطابق سوال کیا کریں
❗ حکایت ❗
ایک فقیر کسی بڑے محل کے دروازے صدا لگانے لگا تو اندر سے کسی نے چھوٹی سی شے بھیک میں دے دی
فقیر وہ لیئے چپ چاپ چلا گیا
دوسرے دن ایک پھاؤڑا لایا اور دروازہ کھودنے لگا
گھر کا مالک باہر آیا اور کہنے لگا
یہ کیا کر رہے ہو ؟
فقیر کہنے لگا
یا تو عطاء کو دروازے کے لائق کرو یا دروازہ عطاء کے لائق کرو یعنی اتنا بڑا دروازہ ہے تو بھیک چھوٹی سی کیوں ہے ؟
ہمارا رب تو ملک الملوک ہے
ہمارا رب تو خلاقِ عالم ہے
ہمارا رب تو عالمین کا رب ہے
تو ہم تھوڑا کیوں مانگیں ؟
کثیر مانگیں وہ کثیر دے گا بس آدابِ دُعاء کا لحاظ رکھ کر مانگیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
