اسلامی_طرزِتربیت 220
سیدی مالک بن دینار نے ایسا وعظ فرمایا کہ حاضرین کو رولا دیا
پھر اُن کا مصحف شریف گم ہوگیا
مالک بن دینار نے حاضرینِ مجلس کو دیکھا تو سبھی رو رہے تھے
فرمانے لگے
ويحكم كلكم يبكي فمن أخذ المصحف
تم برباد ہو جاؤ
تم سبھی رو رہے ہو تو مصحف کس نے اٹھایا ہے ؟
❗ العقد الفرید ❗
اس واقعے سے دو باتیں سامنے آتی ہیں
اول
لوگ جس کی نصیحت سن رہے ہوتے ہیں اسی کی عزت پہ حملہ آور ہوتے ہیں اسی کا حق کھاتے ہیں
جیسے امام مسجد کے پیچھے نماز پڑھ کے مقتدی کرتے ہیں
جو شخص تمہاری نمازوں ، نکاحوں ، جنازوں کا ضامن ہے تم اسی کو ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کرتے ہو ؟
نماز پڑھتے ہی مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر اس کی غیبتیں کرتے ہو
ڈوب کے مرتے نہیں ہو ؟
تمہارا کیا جائے گا اگر تم گھر سے وضوء کر کے آؤ سر جھکا کے مسجد میں داخل ہو جاؤ نماز پڑھو اور ادب سے نکل جاؤ
کوئی امام کے خلاف بات کرے بھی تو اسے ٹوک دو کہ تمہارے فلاں کا جنازہ اسی نے پڑھایا تمہارے فلاں کا نکاح اسی نے پڑھایا
اگر یہ بھی تمہیں برا لگتا ہے تو سلام ہو
جو سیاست دان عوام کو لوٹ کھسوٹ کر کھا گئے ان کے ترانے گائے جاتے ہیں اور جو دینی رہنمائی کرتا ہے اسے اٹھارہ بیس ہزار میں غلام سمجھ رکھا ہے
جسے ماتھے پہ رکھنا تھا اسے کمر پیچھے رکھا ہوا ہے
دوم
چور و ڈاکو نیکوں کا حلیہ اپنا لیتے ہیں
جیسے صحافی و سیاست دان کہ معاشرے میں فتنہ و فساد برپا کرنے والے وہ لوگ ہیں جو ہر چھپانے والی خبر کو مرچ مصالحہ لگا کے نشر کرتے ہیں
جرم کو بار بار بیان کرنے سے اس کی کراہیت و شدت ختم کر دیتے ہیں پھر معاشرے میں برائیوں کا سیلاب آتا ہے تو وہی جنٹلمین اور معاشرے کا خیر خواہ بن کے سامنے آجاتے ہیں
بے حیائی کو پھیلاتے ہیں پھر مصلح بننے کا ڈھونگ رچاتے ہیں
ظالموں کو پرموٹ کرتے ہیں پھر مظلوموں کی بے بسی بیان کر کے پیسے کماتے ہیں
وہی بات کہ وعظ و نصیحت سے رو رہے ہیں مگر مصحف چوری کیئے بیٹھے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
