کس حسن و جمال کو ترجیح دیں

اسلامی_طرزِتربیت 210

متنبی نے کہا

وَما الحُسنُ في وَجهِ الفَتى شَرَفاً لَهُ
إِذا لَم يَكُن في فِعلِهِ وَالخَلائِقِ

جب نوجوان کے عادات و اطوار میں حسن نہ تو اس کے چہرے میں حسن کوئی شرف والی شے نہیں ہے
حسنِ مردانہ مردانہ عادات سے بنتا ہے
صدقِ لسان و ایفائے عہد و پاسِ وفاء و ادائے امانت میں جو جتنا زیادہ ہوگا وہ اتنا مرد شمار ہوگا
عورتوں میں حسن و جمال سفید رنگت اور متناسب نقوش ہے جبکہ مَردوں میں وہ مُردے ہیں جو عورتوں کی طرح رنگ و نقش نکھارنے کی جد و جہد کرتے ہیں مگر اولی مردانگی یعنی عادات و اطوار میں نکھار نہیں لاتے

ایک شاعر نے کہا

وهل ينفع الفتيانَ حسنُ وجوههم
إذا كانت الأعراضُ غيرَ حسانِ؟

نوجوانوں کی عادات حسین نہ ہوں تو ان کے چہروں کا حسن ان کو کیا فائدہ دے گا ؟

ولا تجعلِ الحسنَ الدليلَ على الفتى
فما كل مصقولِ الحديد يمانِ

نوجوانی پر حسن کو دلیل نہ بناؤ کیونکہ ہر صیقل کیا ہوا لوہا یمنی تلوار نہیں ہوتی
یہ پرفتن دور ہے مرد و خواتین حسنِ باطن کی جگہ حسنِ ظاہر کو وقت دیتے ہیں اسی کو اہمیت دیتے ہیں
بہت سے رشتے اسی ظاہر پر بنتے ٹوٹتے ہیں
یہ دنیا ہے یہاں کوئی کامل نہیں ہے
سوائے انبیاء کرام علیہم السلام کے اور چند صالحین کے کہ جو ظاہر و باطن میں حسن و جمال رکھتے ہوں
سیدی ابن عطاء اللہ السکندری فرماتے ہیں

دل دو چیزوں کے درمیان گھومے گا تو دوسری کو اِتنا کھو دے گا جتنا پہلی کو پائے گا
آپ کو حسنِ ظاہر و حسنِ باطن ایک جگہ کم ملیں گے
لہذا عقلمندی یہی ہے کہ اندر کے حسن کو ترجیح دیں کیونکہ باطنی حسن والا آپ کو ساتھ رکھے گا تو احترام سے رخصت کرے گا تو عزت سے کرے گا
✍️ #سیدمہتابعالم

Scroll to Top