اسلامی_طرزِتربیت 209
سیدی فضیل بن عیاض فرماتے ہیں
لا تكمُل مروءة الرجل حتى يسلم منه عدوه كيف والآن لا يسلم منه صديقه؟
آدمی مروت اس وقت مکمل نہیں ہوتی جب تک اس کا دشمن بھی اس سے محفوظ نہ رہے جبکہ اب تو یہ حال ہے یہ اس کا دوست تک اسے محفوظ نہیں رہتا
❗ حلية الأولياء ❗
زمانہ جاھلیت میں ڈاکو پڑوسی کے بیوی بچوں کے محافظ ہوتے تھے جبکہ آج پڑوسی سب سے بڑے حاسد و دشمن ہوتے ہیں
حدیث مبارکہ میں پڑوسیوں کی خاتون سے زنا دور کی عورت کیساتھ زنا سے زیادہ سخت فرمایا
محلہ داری ہو یا دوست داری دنیا میں یوں ناپید ہے جیسے سیاہ گلاب ناپید ہے
اسلاف کے دور میں کوئی فوت ہو جاتا تو اس کا دوست سالہا سال تک اس کے گھر کا خرچہ اٹھاتا بلکہ فوت ہونے والے سے بہتر گھر چلاتا تھا
پتا کیوں ؟
کیونکہ جن کی دوستی دنیا میں ہے جنت میں بھی دوست ہوں گے اگر آج دوست کی وفات کے بعد اس کے اھل و عیال کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا تو کل قیامت میں کس منہ سے دوست کا سامنا کریں گے ؟
دوستی کے تقاضے پورے کرنا جدید انسان کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ جدید انسان کے تعلقات عارضی فائدے پر قائم ہوتے ہیں جبکہ حقیقی دوست بلا غرض و فائدہ تعلق بناتا ہے
فائدے پر تعلقات قائم کرنا تو تجارت ہے اور تاجر جہاں نقصان دیکھتا ہے ہاتھ کھینچ لیتا ہے
اھلِ عرب کہتے ہیں
الصدیق قبل الطریق
راستہ چلنے سے پہلے دوست کا انتخاب کیا جاتا ہے
ہمارا راستہ جنت کا راستہ ہے تو کیا ہمارا دوست اس راستے پر مددگار ہوگا ؟
وقت ضائع کرنے کے لیئے ہزار دوست مل جائیں گے مگر وقت کھرا کرنے کے لیئے کوئی دوست ہے ؟
میں زندگی کے جن تلخ تجربات و مشاہدات سے گزرا ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ درسِ نظامی کے درجہ اولی میں ہم نے سنا تھا کہ جامعہ کی دوستی جامعہ مرکزی دروازے تک ہوتی ہے
پھر جوان ہوئے سات سال گزرے فارغ ہوئے تو واقعی ایسا تھا
ایک جگہ کام کرنے کی وجہ سے عارضی فائدے ایک دوسرے کے ساتھ بندھ جاتے ہیں اور ہم اسے دوستی کہتے ہیں
الغرض محلہ داری کی دوستی بھی حقیقی نہیں رہی اور تعلیمی سفر کی دوستی بھی حقیقی نہیں رہی
یہ غربت { اجنبیت }کا دور ہے
اس میں دوست سیاہ گلاب کی طرح ناپید ہیں
✍️ #سیدمہتابعالم
