اسلامی_طرزِتربیت 173
یہ زمانہ فتنوں سے بھرپور ہے
ہر طرف خیر کے لبادے میں شر پورے بھار سے کھڑا ہے اور تعجب کی بات ہے خیر والے شر پھیلا رہے ہیں
موجود فتنوں میں ایک فتنہ خطابت, شعلہ بیانی, سحر کلامی بھی ہے
بے شمار ماہر مفتی, محقق علماء , مدقق ادباء اسٹیج کی زینت اس لیئے نہیں بنائے جاتے کہ وہ زبان چلانے کے ماہر نہیں ہوتے
کہیں کسی کو شرم آجائے اور وہ مفتی کو بلا لے تو بھی صرف صدرِ محفل لکھنے تک اصل خطاب کرنے کو زبان کے ماہر جہلاء کو دور دراز سے بھاری اخراجات کر کے بلایا جاتا ہے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إن أخوف ما أخاف على أمتي كل منافق عليم اللسان
مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف ہر اس منافق کا ہے جو زبان کا ماہر ہو
(ابن حبان)
اس پر علامہ مناوی نے شرح میں فرمایا
یعنی زبان کا ماہر دل اور عمل کا جاہل ہو علم کو پیشہ بنا کر اس سے کمائی کرے غیر کے عیب کو برا شمار کرے اور خود اس سے زیادہ برا کرے ایسے بندے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے کہ یہ اپنی زبان کی مہارت سے تجھے اچک لے اور اپنے اندر کی بدبو سے تمہیں مار دے
(فیض القدیر)
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لقد رأيتُ أو أُمرتُ أن أتجوَّزَ في القولِ فإنَّ الجوازَ هوَ خيرٌ
میں نے دیکھا یا مجھے حکم دیا گیا کہ میں کلام مختصر کروں کیونکہ مختصر بات کرنا سب سے بہتر طریقہ ہے
(ابو داؤد)
اور خطیب کیا کرتے ہیں؟ ایک بات کو چھ چھ چار بیان کرتے ہیں ! کس لیئے ؟ صرف چسکے کی خاطر
دوسری روایت میں ہے
من تعلم صرف الكلام ليسبي به قلوب الرجال او الناس لم يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا
جس نے کلام کرنا اس لیئے سیکھا تاکہ لوگوں کے دِلوں کو اس سے اپنا گرویدہ بنائے تو الله تعالیٰ قیامت میں نہ اس کے فرض قبول فرمائے گا نہ نفل قبول فرمائے گا
(ابو داؤد)
خطابت کا بڑا مقصد یہی رہ گیا ہے کہ لوگوں کو ہجوم اپنے گرد جمع کریں مال و دولت اور شہرت کی بھرمار ہو
تیسری روایت میں ہے
إن الله عز وجل يبغض البليغ من الرجال الذي يتخلل بلسانه تخلل الباقرة بلسانها
بے شک الله رب العزت آدمیوں میں سے بہت اچھا بولنے والےاس آدمی کو ناپسند فرماتا ہے جو اپنی زبان یوں ہلاتا ہے جیسے گائے ہلاتی ہے
(ابو داؤد)
مقررین و خطباء زبان کی کمائی نہیں کھاتے تو کیا کھاتے ہیں؟
یہ گھنٹوں ایک بیان کی تیاری کرتے ہیں
تاکہ عوام کو اپنی سحر بیانی سے جکڑ لیں
باقاعدہ خطابت پر کورسز اور کتابیں ہیں
یہ کس لیئے تاکہ زبان کے زور سے مال و دولت و شہرت جمع کریں
اور پھر بعض خطیب سطحی زبان, بازاری انداز, تکفیری و تضلیلی کلام, طعن و تشنیع سے بھرپور, مسلمانوں کو تذلیل و تحقیر سے مخاطب کرتے ہیں
جس کا سب سے بڑا نقصان کالج و یونیورسٹی کے نوجوان الحاد کی طرف جا رہے ہیں
اپنے رب کی طرف اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ
الغرض بازاری زبان استعمال کرنے والے خطیبوں کو دینی محافل میں نہ بلائیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
