غیرت و بے غیرتی کی جنگ

اسلامی_طرزِتربیت 163

یتیم بچوں” معذور مسلمانوں” بیوہ خواتین” بے روزگار نوجوانوں کا حق مار کر کرکٹ” ہاکی اور دیگر کھیلوں اور فلم انڈسری پر حکومت پیسہ لگاتی ہے
بھاری تنخواہیں” بڑے بڑے بونس اور مفت سیر سپاٹا کرواتی ہے
کون گدھا کہتا ہے ہمارا ملک غریب ہے ؟
یہ فضول خرچے بند کر دیں معیشت یورپ کے برابر جا کھڑی ہوگی
یتیموں” بیواؤں کا حق یہ سیاست دان خود کو کھا ہی رہے ہیں کھلاڑیوں کو بھی کھلاتے ہیں
بلکہ بیرونِ ملک مثلا سعودیہ سے آنے والی زکوٰۃ بھی یہ سیاست دان کھا جاتے ہیں
پھر کہتے ہیں مذہبی طبقہ ترقی میں رکاوٹ ہے
ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ سیاست دان ہیں
مذہبی طبقہ تو فلاحی و رفاہی کام بڑھ چڑھ کر کرتا ہے
مذہبی طبقہ انہی لوگوں کے جنازے بھی پڑھاتا ہے جو زندگی بھر دینداروں کو برا کہتے رہتے ہیں
یہ سیاسیت دان چار دن کی عارضی زندگی کے لیئے دین و ایمان اور موت کو بھول جاتے ہیں
ایسا بھولتے ہیں کہ اپنی غیرت و حیاء مار دیتے ہیں ایسے حیاء مارتے ہیں کہ دین کو ریاست سے جدا قرار دیتے ہیں
ایک اعرابی اپنی بیوی کو گھوڑے پر سوار کر لایا اور اترتے ہیں تلوار سے گھوڑے کی گردن اتار دی
پوچھنے پر بتایا
میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ جس جگہ میری بیوی بیٹھی تھی وہاں کوئی مرد بیٹھے
مگر آج کل سیاست دان چند دن کی شہرت و دولت کے لیئے اپنی بیوی بیٹی کا ہاتھ افسروں کے ہاتھ میں دے کر مسکراتے ہیں کہ زمانے کے مطابق چلنا ترقی ہے
آپ باریک نظر سے دیکھیں تو یہ غیرت و بے غیرتی کی جنگ ہے و بس
اسی بیغرتی میں دنیا دار فقراء و مساکین کا حق کھا جاتے ہیں
مساجد و مدارس سے ٹیکس لیکر سینماء ہالوں اور فحاشی پر لگایا جانا بیغرتی نہیں تو کیا ہے ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top