مسجد میں مرا جہنمی شراب خانے میں مرا جنتی

اسلامی_طرزِتربیت 96

ایک شخص شراب میں خانے میں مر گیا مگر وہ جنت میں گیا
دوسرا مسجد میں مرا مگر ہو جہنمی ہے

کیونکہ پہلا شراب خانے میں لوگوں کو سمجھانے گیا تھا تو موت آگئی
دوسرا مسجد میں چوری کرنے گیا تھا تو مر گیا
لہذا کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کا حکم ظاہری احوال سے نہ لگائیں

ہم بچپن میں ایک گاؤں میں جمعہ پڑھنے گئے وہاں ایک ہی مسجد تھی
جمعہ سے فارغ ہو کر جب دوست باہر نکلے تو دیکھا ایک بندہ گلی سے گزر رہا تھا جس کے ماتھے پر محراب کا نشان تھا
اس کو کہا جناب آپ نے جمعہ ادا کیوں نہیں کیا حالانکہ آپ پکے نمازی ہیں حتی کہ آپ کے ماتھے پر محراب کا نشان ہے؟

وہ پنجابی میں کہنے لگا
اے محراب دا نشان نہیں اے بلکہ کھوتی لت ماری ہائی
یعنی یہ محراب کا نشان نہیں ہے بلکہ گدھی نے لات ماری تھی جس کا نشان بن گیا

اسی طرح سر سید احمد خان کے بارے بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ باشرع مولوی تھا
جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے
اس کے گلے کے نیچے گلٹی تھی جو اس کو بدصورت بناتی تھی
اس گلٹی کو چھپانے کے لیئے اس نے داڑھی رکھ لی تھی
ورنہ اس میں مولوی تو کیا اسلام والی کوئی بات نہیں تھی جبکہ آج مسلمانوں کا ہیرو بنا دیا گیا ہے

الغرض ظاہری خد و خال حال و احوال سے کسی کے بارے جنتی و جہنمی ہونے کی رائے قائم نہیں کی جا سکتی

لباسِ خضر میں یاں سینکڑوں راہزن بھی پھرتے ہیں
اگر جینے کی خواہش ہے تو پہچان پیدا کر

دوسروں کی جنت یا جہنم کی سوچ سے زیادہ اگر ہم اپنی آخرت کی فکر کریں تو دو فائدے ہوں گے

ایک تو ہماری آخرت بہتر ہو جائے گی
دوسرا معاشرے سے بد گمانی غیبت چغلی بہتان وغیرہ کبیرہ گناہ ختم ہو جائیں گے جو ہم کسی کو جہنمی ثابت کرنے کے دوران کرتے ہیں
لہذا اپنی فکر کریں کیونکہ آپ سے آپ کے بارے پوچھا جائے گا یا جو آپ کے ماتحت ہیں ان کے بارے پوچھا جائے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top