مشورہ کون کب دے

اسلامی_طرزِتربیت 94

ایک شخص نے کسی بدو کو دیکھا کہ اس کے اونٹ کی ایک جانب پانی سے بھری جبکہ دوسری جانب مٹی سے بھری ہوئی تھی
اس شخص نے بدو سے پوچھا ایسا کیوں ہے؟
بدو نے کہا تاکہ دونوں جانبوں میں توازن برقرار رہے
اس شخص نے کہا تو تم دونوں جانبوں میں آدھا آدھا پانی رکھ لو اور مٹی رکھنے سے بچ جاؤ گے
بدو کہا واہ
آپ نے ٹھیک کہا اور جیسا کہا ویسے کر دیا
پھر بدو نے اس شخص سے پوچھا
آپ کون ہیں؟
قبیلے کے سردار ہیں یا عالم ہیں؟
اس شخص نہ کہا نہ تو میں قبیلے کا سردار ہوں نہ عالم ہوں میں تو ایک عام بندہ ہوں
یہ سنتے ہی بدو کہنے لگا
اللہ تمہیں برباد کرے نہ عالم ہو نہ سردار ہو پھر بھی مشورے دیتے پھرتے ہو

اس حکایت میں غلطی پر کون ہے؟

اچھا مشورہ دینے والا یا جس کو اچھا مشورہ دیا گیا؟
یقینا یہاں دونوں ہی غلطی پر ہیں
بغیر طلب کیئے مشورہ دینا حماقت ہے
بغیر طلب مشورہ دینے کی مذمت کے بارے بہت سی روایات و علماء کرام کے اقوال موجود ہیں
لہذا جس کو اپنی عزت عزیز ہو وہ اس وقت تک مشورے کے لیئے منہ نہ کھولے جب تک مشورہ طلب نہ کیا جائے

اگر آپ کو اھل سمجھا جاتا تو مشورہ طلب کیا جاتا جب طلب ہی نہیں کیا گیا تو خود کو اھل ثابت کرنے کے لیئے ہلکان مت ہوں

دوسری جانب عوام کا حال ہے کہ وہ مشورہ یا اچھی بات صرف اسی کی قبول کرتے ہیں جو مالدار ہو یا بڑا عالم ہو حالانکہ عربی مقولہ ہے
قد یوجد فی النھر مالا یوجد فی البحر
کبھی کبھار نہر سے وہ چیز مل جاتی ہے جو سمندر سے نہیں ملتی
یہی فتنے کا آغاز ہے کہ مشہور اور فین فالوننگ والا عالم نہ بھی ہو تو اس کی بات کا اذن گمنام حقیقی عالم سے زیادہ سمجھا جاتا
چھوٹوں سے مشورہ طلب کر لینا عیب نہیں بلکہ سیدنا عمر فاروق فرماتے تھے کہ
نوجوانوں سے مشورے لیا کرو کہ ان کے دماغوں میں حدت و تیزی ہوتی ہے
یہی وجہ کہ خود عمر فاروق حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کو کہ نوجوان تھے اکابر بدری صحابہ کے ساتھ بٹھاتے تھے اور مجلس میں بولنے کا موقع دیا کرتے تھے

مشورہ یا رائے بغیر مانگے نہ دیں اور اگر کہیں موقع ملے تو نوجوان مگر مضبوط علم والوں سے مشورہ کیا کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top