بے سکون زندگی کو پر سکون کرنا چاہتے ہیں ؟

اسلامی_طرزِتربیت 91

ایک دیہاتی سے پوچھا گیا سمجدار کون ہے ؟
کہا
°°° ذہین مگر جان بوجھ کر لوگوں کے معاملات سے غفلت برتنے والا °°°

یعنی کسی کے عیب اور اپنی طبیعت کے خلاف کام دیکھ کر ایسا ظاہر کرے جیسے کچھ دیکھا ہی نہ ہو
خطاء دیکھ کر بھی ان دیکھی کرے, حاسد دیکھ کر بھی اس سے درگزر کرے, دشمن دیکھ کر بھی توجہ نہ کرے, فتنہ دیکھ کر مائل نہ ہو, بہت زیادہ باتوں سے حیل و حجت سے دور رہے, رات آئے تو ہر انسان کے بارے اس کا دل صاف ہو صبح ہو تو سب سے سلام و کلام کرے

تغافل برتنا یعنی سب کچھ دیکھ کر ان دیکھا کرنا اعلی ترین لوگوں کا طریقہ ہے

امام احمد بن حنبل نے فرمایا
تسعة اعشار حسن الخلق فى التغافل
تغافل برتنا حسنِ اخلاق کے دس میں سے نو حصے ہیں

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
°°° العقلُ مكيالٌ ثلثه الفطنة وثلثاه التغافل °°°
عقل ایک پیمانہ ہے اس کا ایک تہائی ذہانت اور دو تہائی تغافل ہے

امام شافعی کا فرمان ہے
••• الكيّس العاقل هو الفطن المتغافل •••
عقلمند وہ سمجھدار ہے جو تغافل اختیار کرے

سلطان صلاح الدین ایوبی کے بارے علماء نے واضح لکھا کہ وہ کثرت سے تغافل اختیار کرتے تھے

امام جعفر صادق نے فرمایا
عظّموا أقدراكم بالتغافل‏
تغافل اختیار کر کے اپنے اخلاق عظیم بناو

یہ حقیقت ہے مومن اتنی کثرت سے تغافل اختیار کرتا ہے کہ سامنے والا سمجھتا ہے اسے تو کچھ بھی علم نہیں ہے حالانکہ مومن سب کچھ جانتا ہے

اگر آپ پر سکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں
ذہنی ٹینشن, ڈپریشن سے بچنا چاہتے ہیں تو تغافل کی عادت بنا لیں
پہلے پہل یہ عادت بنانے میں مشکل آئے گی مگر جب یہ عادت بن گئی تو زندگی بہار کی طرح کھل اٹھے گی سمندر کی طرح پر سکون ہو جائے گی

بس یہ ذہن بنا لیں کہ کسی کے عقائد و اعمال و افعال اقوال کی ٹوہ میں نہیں پڑنا کیونکہ اس کے بارے مجھ سے پوچھ گچھ نہیں ہونے والی
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top