اسلامی_طرزِتربیت 89
صالح (نیک) انسان کو بہت پسند کرتے ہیں مگر مصلح (نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے والے) کو ناپسند کرتے ہیں
صالح بندہ تنہاء کامیاب ہوتا ہے جبکہ مصلح ہزاروں کو کامیاب کرواتا ہے اسی وجہ سے شیطان صالح سے زیادہ مصلح سے ڈرتا ہے
اعلانِ نبوت سے قبل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صالح تھے کفار مکہ صادق و امین کہتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مصلح ہوئے تو وہی صادق و امین کہنے والے دشمن بن گئے
اللہ رب العزت نے فرشتوں کو حکم دیا کہ فلاں بستی نہایت گناہ گار ہے اس کو تباہ کر دو فرشتوں نے عرض کیا یا رب العالمین وہاں تیرا ایک نیک بندہ بھی رہتا ہے
فرمایا
اس کو بھی ہلاک کر دو اور اس کی چیخیں مجھے سناؤ
کیونکہ وہ خود تو نیک تھا مگر دوسروں کو برائی سے روکتا نہ تھا
یعنی صالح تھا مصلح نہ تھا
جہاں آپ خود نیک اعمال کرتے ہیں وہیں واجب ہے کہ اپنے اھل و عیال کو بھی نیک بنانے کی کوشش کی جائے ورنہ قیامت میں یہی اھل و عیال آپ کی نیکیاں چھین کر جہنم میں پھنکوا دیں گے
بیٹی آئے گی
یا رب اس نے خود نیکیاں کی مجھے نہیں کہا میرا اس پر حق ہے حق لے دے
تب بندہ اپنی نیکیاں دے گا
بیٹی جنت میں باپ جہنم میں
بیوی بھی یہی کہے گی
غور کریں آپ آج جن جن کے لیئے تگ و دو کر رہے ہیں وہ کل بھی آپ کو بھگائیں گے لہذا نیکی کا حکم دیں تاکہ حجت قائم ہو جائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
