کون کس کا راز ہوتا ھے

اسلامی_طرزِتربیت 78

آپ کا راز کیسا ہے غور کریں

سیدی عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مشہور سخی حاتم طائی کے بیٹے ہیں یہ جلیل القدر صحابی بھی ہیں
یہ روٹی ٹکڑے کر کے چیونٹیوں کے سوراخوں کے سامنے پھینکتے تھے اور فرماتے تھے کہ
یہ جاندار ہمارے پڑوسی ہیں اور ہم پر پڑوسی کا حق ادا کرنا واجب ہے

باپ کی عادات و خصائل اولاد میں ضرور منتقل ہوتی ہیں

ایک بار کسی سائل نے عدی بن حاتم سے سوال کیا کہ دس درھم دے دیں
آپ نے قسم اٹھائی کہ تجھے ایک درھم بھی نہیں دوں گا کیونکہ تم نے اتنے بڑے سخی کے بیٹے سے دس مانگ کر اسکی توہین کی ہے
جب سائل جانے لگا تو آپ نے واپس بلایا اور فرمایا
اگر میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تمہیں ایک درھم بھی نہ دیتا
فرمایا
جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر تمہیں محسوس ہو کہ وہ کام قسم توڑنے سے اچھا ہے تو قسم توڑ کر وہ اچھا کام کرو اور کفارہ دو

پھر آپ نے سائل کو دس ہزار درھم دیئے اور قسم کا کفارہ الگ ادا کیا
سخاوتِ مال اور سخاوتِ نفس وراثت میں بچے کو ملتی ہیں

فضیل بن عیاض نے اپنے بیٹے کو دیکھا کہ وہ ترازو کو خوب صاف کر رہا ہے پوچھا اتنی محنت سے کیوں صاف کر رہے ہو
کہنے لگا
کہیں ترازو کے تول میں گاہک کو گرد و غبار نہ دے دیا جائے

یہ سن کر ایک آدمی نے بے ساختہ کہا
الولد سر لابیہ

بچہ اپنے باپ کا راز ہوتا ہے

یعنی جو گُن جو صفات و اخلاق باپ میں ہوتے ہیں وہ اولاد میں ضرور آتے ہیں

سعید بن مسیب ساری رات عبادت کرتے ساتھ میں دو چار سال کا بچہ لیٹا ہوتا اس کو مخاطب کر کے فرماتے

یہ مشقت میں تمہارے لیئے کر رہا ہوں
یعنی میری عبادت و نیکی کا اثر تم پر پڑے اس لئیے اتنی محنت کرتا ہوں
کیونکہ اچھی اولاد دنیا میں نیک نامی اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتی ہے

اگر اولاد سے دنیا و آخرت کی بھلائی لینی ہے تو پہلے اس کے سامنے نیکی و بھلائی کیا کریں

کیونکہ بچہ باپ کا راز ہوتا ہے بچہ وہی کرتا ہے جو باپ کرتا ہے
اولاد کو نیک بنانے کے لیئے خود نیک ہونا پڑے گا
بچہ دنیا میں سب سے پہلے باپ کی نقالی کرتا ہے تو اگر باپ ہی دنیا دار و بے کار ہو تو بچے سے اچھے کی امید نہ رکھیں

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top