اسلامی_طرزِتربیت 34
سیاست شرعیہ یا طوائف الملوکی
امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں امام زین العابدین کے متعلق لکھا ہے
خدا کی قسم یہ امامتِ عظمی کے اھل تھے یعنی خلافت کے اھل تھے
تمام ظاہری و باطنی لحاظ سے اس وقت کے خلیفہ سے اقدام و اولی و اعلی اور زیادہ حقدار تھے
مگر آپ نے اس وقت کی شرعی سیاست میں حصہ نہ لیا
اور یہی حال آپ کے بعد تمام ائمہَ سادات کا تھا مگر انہوں نے بھی شرعی سیاست میں حصہ نہ لیا
جناب غوث پاک کے دور میں بھی خلافت تھی آپ نے بھی شرعی سیاست میں حصہ نہ لیا
یہ صرف سادات کے ائمہ کی بات ہے
باقی ان کے سوا جو علماء و اولیاء تھے
جو ہر لحاظ سے خلافت کے حقدار تھے
سیاست میں حصہ نہیں لیتے تھے
ان کا دین بھی مکمل تھا ایمان بھی آج کل کے سیاسی علماء سے ہزار درجہ پختہ تھا
تو جو آج غیر شرعی جمہوریت میں حصہ لینے کو دین کی اساس و بنیاد ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں وہ ان اکابر سادات و اولیاء و علماء کے بارے کیا فرمائیں گے؟
خلقِ قرآن کے فتنے پر امام احمد کی آزمائش ہوئی مگر کسی امام نے کسی عالم نے کسی ولی نے کسی مجتہد نے نہ بغاوت کا سوچا نہ سیاست میں آنے کا سوچا
حالانکہ اس وقت مجتہدین بھی تھے اور اولیاء کرام کی کثرت تھی
اللہ ربّ العزت کی ایک صفت کو مخلوق کہا جا رہا تھا اللہ ربّ العزت کی ذات پر حملہ ہوا تھا
مگر کسی امام نے خروج نہ کیا اور نہ بغاوت کی
آج کونسی وحی آگئی ہے کہ سیاست میں حصہ لینا دین کا بنیادی حصہ بن گیا ہے
یا آج اُس وقت کے علماء سے بڑے علماء ہیں؟
یا آج اس وقت کے فتنے سے بڑا فتنہ ہے؟
ایسے ہی ابن تیمیہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کی نیت سے سفر کو حرام کہا اور گناہ کا سفر کہا
اس وقت بھی علماء نے اسے ناموس رسالت کا ایشو بنا کر نہ احتجاج کیا نہ بغاوت کی نہ اس کو قتل کیا نہ سیاست میں حصہ لیا
اسی طرح امام اھل سنت کے زمانے میں طواغیت اربعہ نے کف۔ریہ عبارت لکھیں
اعلی حضرت نے ان چاروں کو مر۔تد کہا مگر نہ ان کے قتل کا حکم دیا نہ سیاست میں آئے
کہ حکومت بنا کر سزا دیں گے بلکہ جمہوریت اور اس وقت کے نظام سیاست کو برا کہا
جسے طلب ہو فتاوی رضویہ کی پندرہویں جلد پڑھ لے
عملی طور پر امام اھل سنت سیاست سے دور رہے
فکر رضا کے بیٹوں کو کیسے وہ نظر آگیا جو امام اھل سنت کو نظر نہیں آیا تھا
یعنی جمہوری سیاست کا جواز اور اس میں حصہ داری
جو بات آپ کو نظر آرہی ہے کہ نظام پھر کیسے درست ہوگا وہ لاکھوں علماء و اولیاء کو نظر کیوں نہیں آئی؟؟؟
ہر بندہ ہی سیاسی ہو جائے گا تو عوام کون ہوگی ؟
اور کہاں ہو گی؟
اے عزیز
سیاست صرف ایک طبقے کا کام ہے جن کو ارباب حل و عقد کہتے ہیں
اگر ہر بندہ سیاسی بن جائے تو اس کو طوائف الملوکی کہا جاتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
