سیلاب کی جھاگ یا پیشاب کی جھاگ

اسلامی_طرزِتربیت 31

حضور پاک صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
عنقریب تم پر قومیں یوں ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے کھانے کے برتن پر ٹوٹ پڑتے ہیں
کسی نے عرض کیا
حضور ؛ اس وقت ہماری تعداد کم ہوگی ؟
فرمایا بلکہ تم بہت زیادہ ہو گے
لیکن تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ہو گے {یعنی بے وقعت و بے وزن} الله رب العزت تمہاری ہیبت تمہارے دشمنوں کے کے دِلوں سے نکال دے گا اور تمہارے دِلوں میں وھن ڈال دے گا
عرض کیا
حضور وھن کیا ہے ؟
فرمایا
دنیا کی محبت اور موت کو ناپسند جاننا
{ابو داؤد شریف}

ہماری پنجابی میں اس بندے کے لیئے کہتے ہیں جس کا جوش آتے ہی اتر جائے یا غصہ آتے ہی اتر جائے کہ پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا

اس وقت مسلمان سیلاب کی جھاگ جیسے وقعت ہیں یا پیشاب کی جھاگ جیسے بے وقعت ہے
غزہ پر خامشی بتا رہی ہے
عوام الناس سیلاب کی جھاگ کی طرح ہے بے وقعت دنیا کی محبت میں گرفتار اور دنیا کیا ہے ؟ مردار اور مردار کا طالب کتا ہے
عوام کا حال تو یہی ہے جو اوپر بیان ہوگیا کہ کتے ہو کر جہاد کی طمع کرتے ہیں
یہ میں نے نہیں حدیث شریف میں آپ کے میرے نبی کا فرمان ہے کہ سیلاب کی جھاگ کی طرح ہوں گے
اور دنیا مردار ہے اس کے طالب کتے ہیں یہ بھی حدیث شریف ہے
حدیث شریف کے آخری حصے میں حضور پاک نے ناکامی کی وجہ دنیا کی محبت بتائی ہے
ہر ایک غور کرے کتنا دنیا سے زاہد ہے ؟
مال و متاع جمع کر کر کے رکھا ہوا ہے یہ محبتِ دنیا نہیں تو کیا ہے ؟
اور پھر دنیا کے عاشق ہو کر جہاد کی بات کس منہ سے ؟
ہم نے پچھلی تحریر میں فجر کی نماز کے بارے لکھا تو کچھ لوگوں کو مرچیں لگ گئیں
کیوں لگیں ؟
تمہارا جوشِ جہاد سیلاب کی جھاگ ہے
یہ تمہارے نبی نے فرمایا ہے اسی وجہ سے تم مال و دولت جمع کرتے ہو اور بڑے بڑے کام نہیں کر پاتے
کبھی کبھار کی بے عملی ایمان کر سوالیہ نہیں اٹھاتی بلکہ مسلسل بد عمل ہونا سیلاب کی جھاگ ہے
اگر میں مثالیں دیکر بیان کروں تو تحریر طویل ہو جائے گی کہ کون کون سی اشیاء میں آپ غزہ کے مسلمانوں کے مجرم ہیں
یہاں رہ کر آپ کیا کر سکتے ہیں کیا کر رہے ہیں ؟
میں نے بڑے بڑے مفتیوں کی ٹیبلز پر پیپسی و کوک دیکھی ہیں`
ہم سب مجرم ہیں
اسی وجہ سے سیلاب کی جھاگ ہیں
رہ گئے حکمران تو وہ سیلاب کی جھاگ نہیں پیشاب کی جھاگ ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top