ذاتی_مطالعہ 72
مغلوب ہمیشہ غالب کی پیروی کرنے میں ہلکان ہوتا ہے
مغلوب غالب کے شعار و لباس و حلیہ حتی کہ اس کے دین میں اس کی پیروی کرتا ہے
{ مقدمہ ابن خلدون فصل 23 صفحہ 262 }
یعنی مغلوب قوم میں ایک قسم کا شہدہ پن اور احساس کمتری ہوتا ہے کہ دوسری قوم کو خود سے بہتر سمجھتی ہے
اسی وجہ سے دوسری قوم کی پیروی کرتی بلکہ اسے قابل فخر سمجھتی ہے
مقدمہ ابن خلدون آج تک یورپ کی درسگاہوں میں پڑھایا جاتا رہا ہے
اس میں قوموں کے بننے بگڑنے کے اسباب اور ذہنی حریت کا مواد کافی ملتا ہے
قوموں کے زوال کے اسباب بیان کیئے اور پھر ان کا نتیجہ بیان کیا کہ مغلوب غالب کی ہر لحاظ سے نقالی کرتا ہے
ہمارے ہاں دیکھ لیں
کھانا پینا سونا اٹھنا بیٹھنا درسگاہیں گھر کام کاج کی جگہ رہن سہن لباس و شکل غمی خوشی ہر چیز انگریزوں کی نقالی میں کرتے ہیں
صرف ایک طبقہ آپ کو ملے گا جو ان اثرات سے پاک ہے وہ علماء کرام کا طبقہ ہے
کیونکہ علماء کرام ذہنی فکری روحی علمی ہر لحاظ سے آزاد ہیں
اسی وجہ سے داڑھی عمامے سنت کے مطابق لباس میں نظر آئیں گے
اور حقیقی علماء یورپ کی ہر دَین کو رد کرتے ہیں حتی کہ ہم نے دیکھا احساس کمتری کے مارے کچھ مولوی حضرات خود کے ساتھ مولوی لکھنے کو توہین جبکہ ڈاکٹر لکھنے کو مقامِ شرف جانتے ہیں
خود کو مبلغ کہنے کی جگہ اسلامک اسکالر کہنا پسند کرتے ہیں
خود کو علامہ کہنے کی نسبت پروفیسر کہلوانا پسند کرتے ہیں
یہ فکری احساس کمتری ہے جو علامہ ابن خلدون نے بیان کر دی کہ مغلوب قوم ہر شعبے میں غالب قوم کی نقل کرتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
