تاریخِ_اسلامی 89
ایمان والوں کی قران کریم سے محبت بڑی نرالی ہوتی ہے
قرآن کریم یاد کرنے و لکھنے اور پھر اس کی مختلف علوم و فنون میں تفاسیر کی کثرت اِس عظیم کتاب سے محبت کا ثبوتِ واضح ہے
ابو عبد اللہ محمد بن عبد الله بن محمد بن علي ابن مفرّج الأنصاري المعروف ابن غَطُّوس قرآن کریم کے نسخہ جات تیار کرنے کے لحاظ سے مشہور ہیں
یہ اس کاریگری کے ساتھ قرآن کریم لکھتے تھے کہ روشنائی میں مشک و عنبر کا استعمال کرتے تھے اور فتح نصب جر کے لیئے الگ الگ رنگ استعمال کرتے تھے
ملوک و سلاطین و امراء ان کے لکھے نسخے بڑھ چڑھ کر خریدتے تھے
یہ ایک نسخہ ایک ہزار دینار کا ہدیہ کرتے تھے
انہوں نے اپنے ہاتھ سے قرآن کریم ایک ہزار نسخے لکھے تھے اور قسم کھائی تھی کہ قرآن کریم کے سوا کوئی حرف نہیں لکھیں گے
ان کی ایک خاص جگہ جہاں ان کے سوا گھر والوں میں سے کوئی داخل نہیں ہوتا تھا
یہ وہاں کتابت کرتے تھے
اعلام للزرکلی
ایک شخص نے ان سے قرآن کریم کا نسخہ ہدیتاً لیا اور اپنے ملک چلا گیا
کچھ دن بعد ابن غطوس کو خیال آیا کہ فلاں آیت لکھنے میں غلطی ہو گئی ہے
وہ رات کے وقت ہی گھر سے نکل پڑے
چالیس روز کا مسلسل سفر کر کے رات کے وقت اس آدمی کے گھر پہنچے
دروازہ کھٹکھٹایا
وہ آدمی باہر آیا تو ابن غطوس نے کہا قران کریم کا وہ نسخہ لاؤ
وہ آدمی کہنے لگا
میں کیوں لاؤں
میں نے نہ چھینا نہ چوری نہ بلکہ پیسے دیئے ہیں
ابن غطوس نے کہا
بالکل ایسا ہی ہے مگر ایک آیت کے لکھنے میں مجھ سے خطاء ہوگئی ہے
مجھے چین نہیں آ رہا آپ وہ نسخہ لائیں
وہ آدمی نسخہ لایا تو اس میں واقعی ایک جگہ لکھنے میں غلطی تھی
ابن غطوس نے جیب سے قلم نکالا اور درست کر دیا
پھر کہنے لگے
الحمد للہ اب میں ذمہ سے بری ہوگیا ہوں
قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ رب العالمین کا ہے اور وہ مؤمنین کے دِلوں میں قرآن کریم کی عزت و ہیبت ڈالتا ہے
مؤمنین اپنے ایمان کی مقدار قرآن کریم سے محبت کرتے ہیں
اس کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں
مگر افسوس آج کے مسلمان قرآن کریم پڑھنے سننے اور سمجھنے سے بہت دور ہیں
سیدمہتاب_عالم# ✍️


ماشاءاللہ بہت خوب 🌹