تاریخِ_اسلامی 88
یہ ہمارے شاندار ماضی کی یادگار ہے
حسام الدین یاؤلاک ارسلان کا سکہ ہے
یہ 1184 کے قریب میاردین کے حاکم رہے
جس میں وہ ایک صلیبی سورما کا سر کاٹ کے ہاتھ میں لیئے بیٹھے ہیں
یہ سونے سے بنا دس گرام کا ہے اور آج بھی برطانیہ کے میوزیم میں صلیبیوں کو ان کی اوقات یاد دلا رہا ہے
اس کی ہیبت تو ملاحظہ کریں کہ جب حاکمِ وقت جہاد کا شوقین ہو تو عوام میں جذبہَ جہاد یوں پھونکتا ہے کہ ہر خاص و عام کے ہاتھوں میں یہ سکہ صبح و شام گزرتا ہے کہ ان کو جہاد یاد رہے
جب اپنی جان سے قیمتی اسلام کی جان عزیز ہو تو حاکم یہ نہیں کہتا ہے کہ ہم کمزور ہیں فلاں پابندی لگ جائے گی فلاں ملک ناراض ہو جائے گا بلکہ وہ تعداد میں قلت کے باجود کثیر کفار کو ناکوں چنے چبواتا ہے
جن کی روح بدبودار ہو اور ظاہری شکل بھی یہودیانہ ہو باطن کافرانہ ہو وہ جہاد کی نہ بات کرتے ہیں نہ جہاد کی بات برداشت کرتے ہیں بلکہ ان کا تمام تر زور مسلمانوں کو برا کہنے میں گزرتا ہے
قوتِ بازو میں زور بعد میں پیدا ہوتا ہے پہلے دل میں حرارتِ ایماں پیدا ہوتی ہے
جن کے دل ہی دنیا کی محبت اور کفار کے لیے نرمی میں لتھڑے ہوں وہ محض گوشت کے لوتھڑے ہیں دل نہیں ہوتے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

