تاریخِ_اسلامی 82
عثمانی سلطنت امت کے لیئے رخِ برگِ گلاب پر مثلِ شبنم تھی
عثمانی سلطنت کی نہ صرف عوام بلکہ سلطان بھی با ادب تھے
جب شام کے تاریخی شہر حلب میں سلطان سلیم نام جمعہ کے خطبہ میں خطیب نے یوں لیا
مَلِک الحرمین الشریفین
یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بادشاہ تو سلطان سلیم نے فورا ٹوکا اور کہا
میرے لیئے فخر تو یہ ہے کہ میں مکہ پاک اور مدینہ پاک کا خادم کہلاؤں
تب سے آخر تک عثمانی سلاطین خود کو خادم الحرمین کہلائے
جبکہ یہ لقب نجد کے بدوؤں نے عثمانیوں سے ہی چرایا ہے
ایک بڑی دلچسپ اور آل عثمان کے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ
یورپ سے کوئی انسان مسلمان ہوتا تو اسے اس کے دوست کہتے یہ عثمانی ہوگیا ہے
یہ نہ کہتے کہ مسلمان ہوگیا ہے
الدولة العثمانية دولة اسلامية مفترى عليها للشناوى
یعنی عثمانی عالمِ اسلام میں یوں ابھر کر آئے کہ مسلم ہی عثمانی اور عثمانی ہی مسلم ہوگیا
کیوں نہ ہوتا آخر کار سلطانِ سلطاناں حضرت عثمان اول جو کہ عثمان غازی کے نام سے مشہور ہوئے ان کا اخلاص اور دینِ اسلام کی خدمت کا جذبہ ان کی نسلوں میں آیا
جنہوں نے خوب اسلام پھیلایا
اللہ رب العزت عثمانی سلاطین کی قبروں کو منور کرے جیسے انہوں نے اسلام کے دیئے کو منور کیا
سیدمہتاب_عالم# ✍️
