جب فاتحِ قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح کے ہاتھ کاٹے جانے لگے تھے

تاریخِ_اسلامی 50

سلطان محمد فاتح نے استنبول شہر میں ایک مسجد کی تعمیر کا حکم دیا یہ کام ایک رومی ماہر تعمیرات “Epslanti” کے ذمہ لگایا
اسے مسجد کی تعمیر کی نگرانی کا کام سونپا
سلطان کے حکم میں سے یہ بھی تھا کہ مسجد کے میناروں کو سنگ مر مر سے بنایا جائے
اور یہ مینار اونچے ہوں تاکہ مسجد عالیشان نظر آئے
سلطان محمد فاتح نے میناروں کی اونچائی کی ایک حد مقرر کی لیکن معمار نے سلطان کو بتائے یا اس سے مشورہ کیے بغیر ان کی لمبائی کم کردی
جب سلطان محمد نے سنا تو غصے میں آگیا کہ میرے حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے!
اس غصے کے عالم میں سلطان نے معمار کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا
بعد میں سلطان محمد فاتح کو اس پر افسوس ہوا لیکن اب دیر ہوچکی تھی
معمار اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموش نہ رہا
اور وہ استنبول کے قاضی شیخ خضر چلبی کے پاس چلا گیا
اور جا کر سلطان محمد فاتح کی شکایت کر دی
قاضی صاحب نے بھی اس شکایت کو قبول کرنے میں کوئی دیر نہیں کی نہ ہچکچاہٹ محسوس کی
بلکہ اس نے سلطان کے پاس ایک قاصد بھیج کر اسے بلوایا کہ سلطان بذات خود عدالت میں حاضر ہوں
سلطان نے بھی قاضی {جج} کی دعوت کو قبول کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی
مقررہ دن پر سلطان محمد دربار میں آئے اور کرسی پر بیٹھنے کے لیے جانے لگے

  • قاضی صاحب نے سلطان کو کہا •
    جب تک فیصلہ نہ ہو جائے آپ بیٹھ نہیں سکتے آپ کو مدعی کے ساتھ کھڑا رہنا ھے
    رومی معمار نے اپنی شکایت دوبارہ دہرائی قاضی صاحب نے سنی اور سلطان محمد فاتح نے اپنی غلطی کا اقرار کیا
    اب ساری عدالت قاضی صاحب کے فیصلے کی منتظر تھی
    قاضی صاحب بولے
    °°° آپ نے اس معمار کا ہاتھ کاٹا اور پھر اس جرم کا اقرار بھی کیا ہے لہذا شریعتِ اسلامیہ کے اصول کے مطابق آپ کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا °°°
    اور یہی عدالت کا فیصلہ ہے
    رومی معمار اس فیصلے پر دہشت زدہ ہوگیا اور کانپ کے رہ گیا
    کہ قاضی کہ اتنی ہمت جو سلطانِ عالم کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ سنا رہا ہے
    رومی معمار کے ذہن میں تھا کہ قاضی کچھ مالی جرمانہ عائد کرے گا و بس
    سلطان محمد فاتح عدالت میں آگئے یہ بھی بہت بڑی بات ہے
    اوپر سے سزا کا حکم رومی معمار نے قاضی {جج} سے کہا کہ وہ اپنا دعویٰ ترک کر رہا ہے
    اتنے عظیم سلطان کے ہاتھ کٹوانا میرے کسی فائدے کی بات نہیں ہے
    لہذا مجھے بس مالی ہرجانہ ادا کر دیا جائے
    (روائع من التاریخ العثمانی) از اروخان محمد علی

اللہ اللہ
ایسا فیصلہ شاید ہی تاریخِ انسانی میں ہوا ہو
اور قاضی زندہ سلامت بچ گیا ہو جس میں سلطان خود کو مجرم مان کر سزا کے لیئے پیش کر دیتا ہو
یہ اسلامی تربیت کا اثر تھا یہ اسلامی سیاست کی پاکیزگی تھی
سلطان محمد فاتح ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں کو تاریخ کا رخ موڑ کر رکھ دیا تھا
° قسطنطنیہ کو فتح کیا جو کہ کرسچینز کے نذدیک ایسا تھا جیسے مسلمانوں کے ہاں کعبہ شریف ھے °
سلطان محمد فاتح ایسے عظیم سلطان تھے جن کی وفات پر یورپ کے گرجا گھروں میں جشن منایا گیا
سلطان نہ صرف بہترین سلطان تھے بلکہ بہت بڑے عالم بھی تھے
بعض علماء نے ان کو مجدد کا لقب دیا ھے
یہ سچ ہے جب سلطان ایسے قابل ہوں تو قوم غیر مسلموں کا سب سے مقدس مقام بھی مسجد بنا دیتی ھے
ہمیں یہی دورِ عروج چاہے
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو

سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top