جب قاضی القضاۃ چیف جسٹس کو غلام بنا لیا گیا

تاریخِ_اسلامی 42

طبقات السنیہ فی تراجم الحنفیہ میں ہے
حسن بن احمد الرازی رومی قاضی القضاۃ یعنی تمام مسلمانوں کے چیف جسٹس تھے
°°° احناف کے بہت بڑے عالم علومِ نقلیہ و عقلیہ کے ماہر تھے بیس سال تک مصر و شام کے قاضی رہے °°°

سن 696 ھجری میں مصر کے قاضی بنے پھر وہ قضاء سے معزول کے گئے
منگولوں کے فتنے میں ان کو قیدی بنا لیا گیا
اور فرنگیوں صلیبیوں کے ہاتھ آپ کو بیچ دیا گیا فرنگی ان کو یورپ لے گئے جب ان کو معلوم ہوا کہ طب کے ماہر ہیں تو وہ آپ سے نرمی کیا کرتے تھے

••• ایک قول میں ان کو اسہال کا مرض لاحق ہوا اور وہ قبرص میں فرنگیوں کے پاس ہی انتقال کر گئے •••

علامہ صفدی نے ان کی اس حالت پر کچھ اشعار کہے

ان حال الرازی بین البرایا حالۃ لم نجد علیہا مثالا

بلا شبہ امام رازی کی حالت لوگوں میں ایسی حالت ہے کہ ہم نے ویسی مثال کبھی نہیں دیکھی

کان قاضی القضاۃ شاما و مصرا ثم فی قبرس غدا کحالا

آپ مصر و شام کے قاضی القضاۃ تھے پھر یوں ہوا کہ آپ قبرص میں ایک طبیب بن کر رہ گئے

بیس سال قاضی القضاۃ رہے اپنے وقت کے بڑے علماء میں شمار اور پھر ایک وقت آیا کہ غلام بنا لیئے گئے

اللہ ربّ العزت کی خفیہ تدبیر علماء کے بارے کبھی سلبِ ایمان کی صورت ہوتی ہے تو کبھی سخت آزمائش کی صورت ہوتی ہے
کتنے ہی علم و فضل والے رسوا ہو جاتے ہیں
کتنے ہی ایسے جن کی لوگ جوتیاں اٹھاتے تھے ذلیل ہو گئے
کتنے ہی دِلوں پر حکومت کرنے والے ذلت کی دلدل میں اتر گئے

بقول شاعر
صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں مقدر کو بدلتے دیکھا
علم و فضل پر ناز نہ کریں جس نے دی وہ پل بھر میں واپس کے سکتا ہے, اسے مخلوق کا تکبر پسند نہیں
اللہ رب العزت ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور آزمائشوں میں ثابت قدم رکھے
ہم رب العالمین سے عافیت کا سوال کرتے ہیں
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top