رمضان کا چاند دیکھنے کا رواج کب شروع ہوا

تاریخِ_اسلامی 16

قدیم زمانے میں چاند دیکھنے کا طریقہ

جامعہ ازھر میں تاریخ کے استاذ مقصود پاشا کی تحقیق کے مطابق
رمضان کے چاند کو دیکھنے کے لیئے سب سے پہلے شہر سے باہر نکل کر دیکھنے والے قاضی غوث بن سلیمان ہیں (جن کی وفات 168 ھجری میں ہوئی)
اور ایک قول کے مطابق سب سے پہلے چاند دیکھنے کے لیئے نکلنے والے قاضی ابو عبد الرحمن بن لھیعۃ ہیں
(جن کی وفات 155 ھجری میں ہوئی)
اس وقت قاضیوں کے لیئے پہاڑ کی چوٹی پر ایک بلند مقام تیار کیا جاتا جسے دکة القاضى کہا جاتا تھا
مشعلوں اور فانوسوں کے جلوس کی شکل میں قاضی صاحب چار بندوں کے ساتھ اس بلند مقام پر کھڑے ہوتے اور چاند تلاش کرتے تھے
پھر مصر میں فاطمیوں کا دور آیا تو انہوں نے شہر سے باہر نکلنے کی بجائے مساجد کے بلند میناروں پر کھڑے ہوکر چاند دیکھنا شروع کر دیا

کیونکہ اُس دور میں سب سے بلند عمارت مسجد کا منارہ ہی ہوا کرتی تھی

کیا اچھا ہوتا اگر آج بھی ایسا ہی ہوتا کیونکہ اللہ کے گھر سے اونچا نشان کسی گھر کا نہیں ہونا چاہئے
اس کے لیئے تمام بڑے چھوٹے جلوس کی شکل جمع ہو کر مسجد کے مینار کے پاس جمع ہوتے اور قاضی گواہوں کی موجودگی میں چاند دیکھتا
اس جلوس کو موکب رؤیة الهلال کہتے تھے
فاطمی خلیفہ اعلی پوشاک پہن کر شہر میں چکر لگاتا تھا اور ساتھ ہی اعلان کرنے والا کہتا تھا کہ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے
مملوکوں کے دور میں چاند دیکھنے کا انداز سب سے پیارا تھا
قاضی القضاة اپنے ساتھ چار قاضی لیکر مدرسہ منصور قلاوون پر چڑھ جاتے تھے
نیچے شہر کے تمام رؤساء و امراء موجود ہوتے
مساجد و دوکانون پر شمعیں اور فانوس رکھ دیئے جاتے تھے
اور جب چاند نظر آنے کا اعلان ہوجاتا تو قاضی القضاۃ وہاں شمع جلاتے اسے دیکھ کر پورے شہر کی مساجد اور دوکانوں پر شمعیں اور فانوس روشن کر دیئے جاتے تھے !
یوں سارا شہر ایک دم جگمگ جگمگ کر اٹھتا تھا!
خلافت عثمانیہ میں پھر پہاڑ کی چوٹی پر دکة القاضى نامی مقام بنا دیا گیا
لوگ قاضی علماء و فقہاء اور عوام کے ساتھ پہاڑ پر چڑھ کر چاند کا نظارہ کرتے تھے
مشہور سیاح ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں قاضی عزالدین ملیجی کا ذکر کیا اور ان کے اس شاندار طریقے کا ذکر کیا جس سے وہ چاند دیکھتے تھے
کہ مرد و خواتین علماء و فقہاء پہاڑ پر چڑھتے اور وہاں عمدہ قالین بچھائے جاتے ان کے ہاتھوں میں شمعیں روشن ہوتی تھیں
چاند نظر آنے پر خوشی سے واپس آتے تھے
اور تمام مساجد و دوکانوں پر شمعیں روشن کر دی جاتی تھیں
کیا ہی بہترین زمانہ تھا رمضان کی چاند رات ہو یا عید کی چاند رات ہر طرف فانوس و شمعیں روشن ہوتی تھیں اور جشن کا سماں ہوتا تھا
اور کوئی اختلاف کوئی جھگڑا نہیں ہوتا تھا ایک ہی دن پہلا روزہ ایک ہی دن عید منائی جاتی تھی!
آج انتہائی ترقی اور جدید آلات کے باجود مسلمان درست تعین کرنے سے عاجز ہیں
دن متعین ہی نہیں ہوتا تو خوشی کیسے منائی جائے!
یہ تمام فساد خلافت نہ ہونے کی وجہ سے ہے
اگر اسلامی نظام ہوتا تو ہر ایک کو گردن جھکانا پڑتی وہ پہاڑ پر چڑھ کر صرف آنکھوں کے استعمال سے ایک دن پر متفق ہوتے تھے
اور ہمارے ہاں جدید آلات ہونے کے باجود منتشر ہیں!

خدائے احکم الحاکمین اچھے حکمران دے

گردِ مَہ دستِ اَنجم میں رَخشاں ہلال
بدر کی دفعِ ظلمت پہ لاکھوں سلام

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top