جس دن جزیہ معاف اور ٹیکس لاگو کیا گیا

تاریخِ_اسلامی 7

18 فروی 1856 اسلام پر ایک سخت دن تھا
اس کے بعد سے آج تک مسلمان ذلت و رسوائی سے نہیں نکل پائے
اس دن سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبد المجید اول نے اپنی بزدلی و حماقت میں مسلمانوں کی شان و شوکت توڑ کے رکھ دی
اس دن کفار سے جزیہ ساقط کر دیا گیا
{جزیہ جو کفار اسلامی ملک میں رہتے تھے وہ گھٹنے کے بل بیٹھ کر مسلمان حاکم کو ٹیکس ادا کیا کرتے تھے}
یورپ کو خوش کرنے اور ان سے امن کی خاطر اپنے چہرے پر ذلت و رسوائی کی سیاہی مل لی
نو ہجری میں غزوہ تبوک سے واپسی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے نصاری و اھلِ ایلہ پر جزیہ لاگو کیا تھا
تب سے 1856 تک مسلمان حکام شان و شوکت سے غیر مسلموں سے جزیہ لیتے اور ان کی مال و جان کی حفاظت کرتے تھے
کفار ممالک سے خراج وصول کرتے تھے
مامون الرشید کے بارے آتا ہے
ایک بار اس نے بادل کا ٹکڑا تیزی سے جاتے تو دیکھا تو کہنے لگا
اے بادل تو جہاں بھی جا برس تیرا خراج مجھ تک ہی پہنچے گا
کیونکہ سلطنتِ اسلامیہ کی حدود وسیع تھیں اور اسلامی سلطنت کی حدود کے پار غیر مسلم ممالک سلطنتِ اسلامیہ کو خراج دیتے تھے تو مامون الرشید کے کہنے کا مطلب تھا اے بادل تو جہاں بھی برسے کا فصل تیار ہوگی اس میں سے خلافت کو اس کا حق ملے گا
سترہویں صدی میں امریکہ بھی سلطنتِ عثمانیہ کو ٹیکس ادا کرتا رہا ہے
ہماری عظمت و شان” رفعت و جلالت نے اقوامِ عالم کو گھٹنوں پر رکھا ہو تھا

جزیہ کا نظام ختم کر کے مومن و کافر کو ایک صف میں کھڑا کر دیا گیا ہے
سبھی ٹیکس دہندہ ہیں
اب ٹیکس وہ بھی دے رہا ہے جو زکوۃ لینے کا حقدار ہے
جیسے خلافت ختم کر کے جمہوریت کا گند حکمرانوں کے منہ پر مل دیا گیا ہے
عالم و جاہل” مومن و کافر کا ووٹ برابر کر دیا گیا ہے
اور سیاسی کارکن ایسے بد بخت ہیں کہ اس باطل نظام کے خلاف لڑنے کی بجائے باہم دست و گریباں ہیں اپنے اپنے سیاسی رہنماؤں کی جوتیاں اٹھاتے پھر رہے ہیں
غرباء و مساکین سے ٹیکس ختم ہونا ہو یا عالم اور جاہل کے ووٹ کی طاقت کا ختم ہونا ہو یہ صرف قیامِ خلافت سے ممکن ہے
جمہوریت سے دین دار طبقہ بھی موج کر رہا ہے اور دنیا دار بھی موج کر رہا ہے
حق کا عَلَم بلند نہیں ہو رہا نہ جمہوریت سے ایسا ممکن ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top