ردِ_سائنسِ_جدیدہ 15
دنیا میں دو جھوٹ ایسے ہیں کہ
جھوٹ بولنے والا اچھی طرح جانتا ہے کہ سامنے والے کو معلوم میں میں جھوٹ بول رہا ہوں اور سامنے والے کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ مجھے پتا ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے
پھر بھی دھڑلے سے جھوٹ بولا جاتا ہے
ایک چاند پہ جانے والا جھوٹ
دوسرا کرونا کا جھوٹ
نہ ہم نے چاند کی سیر کی نہ کرونا کی زیارت کی اسی وجہ سے سائنس دان ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں
چاند پہ جانا عقلاً شرعاً جائز ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے
امرِ واقعی نہیں ہے
ذہنی غلام تسلیم کریں ہمیں کیا؟
کل سائنس دان کہ دیں کہ ہم آسمان چھو آئے ہیں تو یہ غلام وہ بھی مان لیں گے
سائنس دان کہ دیں ہم نے موت کا توڑ تلاش کر لیا ہے
غلام وہ بھی مان لیں گے
سائنس دان کہ دیں ہم نے امر ہونے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے
غلام وہ بھی مان لیں گے
الغرض سائنس دان کہ دیں کہ ہم نے قیامت روک دی ہے
ذہنی غلام وہ بھی مان لیں
پتا کیوں ؟
کیوں یہ ذہنی و نفسیاتی غلام ہالی ووڈ کی سائنس فکشن مویز دیکھ دیکھ کر مرعوب ہو چکے ہیں
یہ ذہنی غلام اسٹوڈیو میں تیار کی گئی سیٹلائٹ کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر ایمان بنائے بیٹھے ہیں
ذہنی غلام اور باؤلے کتے میں کوئی فرق نہیں ہوتا دونوں ہی کاٹنے کو دوڑتے ہیں
غلام قوم کے معیار ہی غلام ہوتے ہیں یہ آقا کی نجاست کو کستوری ثابت کرنے میں ذرا نہیں شرماتے
آزادی بڑی نعمت ہے خواہ جسمانی آزادی ہو یا ذہنی آزادی ہو
جیسے یہ لوگ سائنس کے دھوکوں کی تاویلات کرتے ہیں بچاؤ کرتے ہیں بلا چوں چراں تسلیم کرتے ہیں ویسے اسلام و اھلِ اسلام کا کرتے تو جنت کی دائمی نعمتیں پاتے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
