کیا آج بھی مجتہد ہونا ممکن ہے

رسم_المفتی 2

ارشاد المھتدین
میں امام سیوطی لکھتے ہیں

أن جمهور العلماء نصوا على أنه يستحيل عقلا خلو الزمان عن مجتهد إلى أن تأتي أشراط الساعة الكبري, وأنه متى خلا الزمان عن مجتهد تعطلت الشريعة
جمہور علماء نے وضاحت فرمائی کہ عقلاً محال ہے کہ قیامت تک کوئی زمانہ مجتہد سے خالی ہو
کیونکہ جب زمانہ مجتہد سے خالی ہوگا تو شریعت معطل ہو جائے گی
اگرچہ علماء نے بیان فرمایا کہ صدیوں سے مجتہد مطلق کا وجود نہیں ہے
خود اعلی حضرت نے فتاوی رضویہ میں اسی کی تصریح فرمائی ہے
مگر شاید امام سیوطی کی مراد مجتہد فی المذہب ہو یا مجتہد فی المسائل ہو تب تو معاملہ واضح ہے
جیسے امام اھل سنت کے بارے علماء نے مجتہد ہونے کا قول کیا
اگر امام سیوطی کی مراد مجتہد مطلق کا ہر دور میں ہونا لازم ہے تو معاملہ مشکل ہو جائے گا
کیونکہ صدیوں سے اس منصب کا نہ دعوی کسی نے کیا نہ علماء نے کسی کو تسلیم کیا نہ کسی میں ایسی شرائط جمع ہوئی ہیں
اگر دقیق نظری سے دیکھا جائے تو عین ممکن ہے ہمارے زمانے میں کوئی مجتہد مطلق ہو مگر اس کا اظہار نہ کرتا ہو کیونکہ مجتہد کا خود کو ظاہر کرنا شرط نہیں ہے تو یوں امام سیوطی کی شرط پوری ہو جاتی ہے
اس کی ایک لطیف وجہ ہے جو امام شعرانی نے الیواقیت میں لکھی ہے کہ مجتہد مطلق درجہ ولایت کی انتہاء پر ہوتا ہے
اور فی زمانہ اولیاء کرام خود کو دنیا و دنیا داروں کی نگاہ سے چھپائے رکھتے ہیں
اللہ رب العزت ہمیں اولیاء کرام کا فیض عطاء فرمائے

سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top