حضور پاک کے کتنے بال سفید تھے

علوم_القران 4


کونسی سورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا اور اس کی حکمت کیا ھے

عارف باللہ امام عبد الوھاب الشعرانی سے جنات نے مختلف علوم و فنون میں سوالات پوچھے

آپ نے ان کے جواب بنام کشف الحجاب الران عن وجہ اسئلۃ الجان نام سے لکھے جو مطبوعہ بھی ہے

اس میں سوال ہے

سورہ ھود اور اس جیسی سورتوں میں کس چیز نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو بوڑھا کر دیا
جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم معصوم ہیں!
اور الله رب العزت کی خفیہ تدبیر حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بارے نہیں ھے

جواباً ارشاد فرمایا
سورہ ھود میں سے جس نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو بوڑھا کیا
وہ حکمِ الہی فاستقم کما امرت ھے (جیسا حکم دیا گیا اس پر قائم رہو)

ایس ہی انسانوں کے علماء میں سے کچھ نے صراحت کی ہے جیسا کہ ابن عربی نے فرمایا ھے

اور سورہ ھود جیسی دوسری سورتوں نے بوڑھا کر دیا جن میں کما حقہ استقامت کا حکم ھے

کیونکہ مقرب بقدرِ طاقت اگر استقامت والا ہو بھی جائے تو بھی ادب مانع ہوتا ھے کہ وہ اپنے آپ کو کما حقہ مستقیم کہے
بلکہ مقرب محجوب سے زیادہ خائف رہتا ھے

جیسا کہ بادشاہ کی ھیبت دیکھنے والے مقرب خائف رہتے ہیں

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے امام قرطبی نے نقل کیا

ما نزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم آية هي أشد ولا أشق من هذه الآية عليه

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر فاستقم کما امرت اس آیت سے زیادہ شدید اور بھاری آیت کوئی نازل نہیں ہوئی

حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اسی وجہ سے راتوں کو قیام فرماتے تھے
سیدہ عائشہ صدیقہ کے پوچھنے پر فرماتے افلا اکون عبدا شکورا
کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں

یعنی کما امرت کا بوجھ لیغفر اللہ سے ہلکا ہوگیا مگر مقرب غافل نہیں ہوتا بلکہ خوف کے ساتھ شاکر ہوتا ھے

تفسیر قرطبی* میں ہی ہے ابو علی سری نے خواب میں جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا دیدار کیا
تو عرض کی یارسول اللہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ اپ نے فرمایا ہے مجھے ھود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کر دیا ھے
فرمایا ہاں میں نے کہا ہے
عرض کی ان میں موجود قصص انبیاء اور امتوں کی ہلاکت نے بوڑھا کیا؟

فرمایا نہیں مگر فاستقم کما امرت فرمان نے بوڑھا کر دیا

یہ نکات خاص صوفیاء کے ہیں

مگر علماءِ ظاہر نے یوں فرمایا کہ ہر وہ سورت جس میں اھوالِ قیامت و عذابِ امم سابقہ کا ذکر ہوا اس نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو بوڑھا کر دیا ھے

جیساکہ ترمذی کی حدیث پاک میں ہے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ آپ بوڑھے ہوگئے ہیں فرمایا مجھے ھود,واقعہ,مرسلات,عم یتسالون اور کورت نے بوڑھا کر دیا ہے!

اس پر علامہ مناوی نے فیض القدیر میں لکھا کیونکہ ان سورتوں میں اھوالِ قیامت ہیں تو اس لیئے بڑھاپا چھا گیا

قرآن کریم میں یہ آیت اسی کی وضاحت کرتی ھے
یوم یجعل الولدان شیبا
وہ دن کہ بچوں کو بوڑھا کر دے گا

ترمذی انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے مبارک سر اور داڑھی شریف میں چودہ بال سفید تھے
سوال ہو سکتا ھے کہ صرف چودہ بال سفید ہوئے تو بوڑھا ہونا کیسے قرار پایا؟
جواب یہ ہے کہ تمام مخلوقات میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم طاقتور ترین مخلوق ہیں
اللہ رب العزت نے فرمایا لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ
کہ اگر یہ قرآن ہم پہاڑ پر نازل فرماتے تو اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا
وہی قرآن جنابِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر نازل ہوا مگر آپ کو صرف پسینہ آتا تھا
تو جس ہستی نے وحی کا بوجھ اٹھا لیا اس سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟
تو جب معاملہ یہ ہے تو ایسی طاقتور ہستی کے بال مبارک سفید ہو جائیں عام بات نہیں ہے

بہر حال دونوں توجیہ درست ہیں

تیسری توجیہ بھی ممکن ہے
کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو معصوم ہونے کی وجہ سے الہی خفیہ تدبیر سے امن تھا
مگر اپنی امت کا خوف تھا کہ کما امرت پر یہ کیسے عمل پیرا ہوں گے کیونکہ آیات کا نزول خاص اور حکم عام ہوتا ھے
اور میری امت اھوالِ قیامت کا سامنا کیسے کرے گی
کیونکہ رب العالمین کے عطاء کردہ علم سے یہ جانتے تھے کہ سب سے پہلے قبر شق ہوگی اور مقام محمود عطاء کیا جائے گا
اول شافع اول مشفع ہیں تو خود تو پر امن ہیں مگر امت کی فکر نے بوڑھا کر دیا ھے

خود بے فکر کیوں نہ ہوں ان صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے صدقے فرشتوں کے سردار جبریل بھی امن والے ہوگئے!

جیساکہ تفسیر ثعلبی میں ہے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے جبریل امین کو فرمایااللہ رب العزت نے مجھے رحمۃ للعالمین بنایا ہے بتاؤ تمہیں میری رحمت سے کیا ملا؟
عرض کی شیطان کے مردود ہونے کے بعد میں اپنے خاتمے سے ڈرتا تھا
مگر جب اللہ رب العزت نے آپ کی خدمت پر مقرر کیا اور قرآن میں مجھے امین فرمایا تو اب میں امن میں ہوں

تو حضور جانِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو اپنا خوف نہیں بلکہ اپنی امت کے نیکوں کاروں کے عجب (خود پسندی)میں پڑنے کا اور گناہ گاروں کے ہلاکت میں پڑنے کا خوف تھا
کہ وہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم تو پیدا ہوتے امتی امتی پکار رہے معراج پر امتی امتی پکار رہے وفات پر امتی امتی پکار رہے ہیں!

تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی محبت
ہے ترکِ ادب ورنہ کہیں ہم پہ فدا ہوں

اور چیختی چنگھاڑتی جھنم کے پل پر کھڑے ہو کر رب سلم رب سلم کی صدا لگاتے ہوں گے

تو اس وقت ان شاءاللہ ہمارا جانا بھی یوں ہوگا

رضا پل سے اب وجد کرتے گزریئے
کہ ہے ربِّ سَلِّم صدائے محمد
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top